Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
481 - 1245
چغل غور کی وجہ سے دو قبیلوں کے درمیان جنگ ہوگئی۔
	ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حُسنِ توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
آفت نمبر17:		  دورُخے شخص کی گفتگو
	دو رُخا وہ شخص ہے جو دو دشمنوں کے پاس آتا ہے اور ہر ایک سے اس کی رائے کے موافق کلام کرتا ہے اور دو دشمنوں سے ملنے والا کم ہی اس سے بچ پاتا ہےاور یہی عین نفاق ہے۔
آگ کی دو زبانیں:
	حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ،راحت ِقلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے:مَنْ کَانَ لَہ وَجْھَانِ فِی الدُّنْیَا کَانَ لَہ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یعنی جو  دنیا میں دو رُخا ہوگا  قیامت کے دن اس کی آگ کی دو زبانیں ہو ں گی۔(1)
	حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتےہیں کہ مدینے کے تاجدار،دوعالم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم قیامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندوں میں سب سے برا دو رُخے شخص کو پاؤ گے کہ جو(دنیا میں ) ایک کے پاس آکر کچھ کہتا تھا اور دوسرے کے پاس آکر کچھ۔(2)
	دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جو (دنیا میں )ایک  کے پاس ایک چہرے سے آتا تھا اوردوسرے کے پاس  دوسرے چہرے سے۔(3)
	حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:دورُخا شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں امین نہیں ہوسکتا۔
دو مختلف ہونٹوں والے شخص کی بروز قیامت ہلاکت:
	حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں:میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ اما نت باطل ہوگئی اور آدمی اپنےدوست کے ساتھ دو مختلف ہونٹوں کے ساتھ ہو تا ہے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بروز قیامت ہر دو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی ذی الوجهين،۴/ ۳۵۲،حديث:۴۸۷۳
2… مسلم،کتاب فضائل الصحابة،باب خیارالناس ،ص۱۳۶۸،حديث:۲۵۲۶ بتغيرقليل
3…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی ذی الوجهين،۴/ ۳۵۲،حديث:۴۸۷۲