پیش آؤ خواہ وہ قریبی ہو یا اس سے کوئی دور کا تعلق ہو،عزت دار اور کمینے شخص سےاپنی جہالت پوشیدہ رکھو، اپنے دوستوں کی حُرمت کا تَحَفُّظ کرو،اپنے قریبی رشتہ داروں سے صِلہ رِحْمی کرو، جو تمہیں نقصان پہنچانااور دھوکادینا چاہتا ہے اس کی بات نہ قبول کرکے یاکسی مُخالِف کی بات نہ سن کے دوستوں کی حفاظت کرو اور تمہارے دوست ایسےہو نے چاہئیں کہ جب تم ان سے اور وہ تم سے جدا ہوں تو نہ تم ان کی برائی کرو اور نہ وہ تمہاری برائی کریں۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:چغلی کی بنیاد جھوٹ،حسداور نفاق پر ہے اور ان ہی تینوں پر ذلت کی عمارت کھڑی ہے۔
بُردْباری کا زیادہ حق دار:
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جو بات چغل خور نے تم تک پہنچائی اگروہ درست ہے تو وہ تمہیں برا کہہ کر تم پر جسارت کرتا ہے اور جس شخص کی بات اس نے نقل کی وہ تمہاری بردباری کا زیادہ حق دار ہے کیونکہ اس نےتمہارے سامنے تمہاری برائی نہیں کی۔
خلاصہ یہ کہ چغل خور کا شر بڑاہےجس سے بچنا چاہئے۔
حکایت:چغل خور غلام
حضرت سیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک شخص نے غلام بیچا اور خریدار سے کہا: اس میں چغل خوری کے علاوہ کوئی عیب نہیں۔اس نے کہا: مجھے منظور ہے اور اس غلام کو خرید لیا۔غلام چند دن تو خاموش رہا پھراپنے مالک کی بیوی سے کہنے لگا:میرا آقا تجھے پسند نہیں کرتا اور دوسری عورت لانا چاہتا ہے،جب تیرا خاوند سو رہا ہو تو اُسْتَرَے کے ساتھ اس کی گدی کے چند بال مونڈ لینا تاکہ میں کوئی منتر کروں اس طرح وہ تجھ سے محبت کرنے لگے گا۔ دوسری طرف اس کے شوہر سے جا کر کہا :تمہاری بیوی نے کسی کو دوست بنا رکھا ہے اور تمہیں قتل کرنا چاہتی ہے،تم جھوٹ موٹ سوجاناتاکہ تمہیں حقیقت حال معلوم ہو جائے۔ چنانچہ وہ شخص بناوٹی طور پر سو گیا، عورت اُسْتَرَا لے کر آئی تو وہ سمجھا کہ اسے قتل کرنا چاہتی ہے لہٰذا وہ اٹھا اور اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ پھر عورت کے گھر والے آئے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس طرح