علوم کی زیادتی کے سبب حاصل ہوتی ہے۔
یہ حالت اس دل کی ہے جسے مَعْرِفَتِ الٰہی حاصل ہو۔
چھٹی فصل: عقلی، دینی، دنیوی اور اُخروی علوم اور دل
ماقبل میں ذکر کیا جاچکا کہ دل میں فطری طور پر اشیاء کے حقائق جاننے کی صلاحیت رکھی گئی ہے لیکن اسے حاصل ہونے والے علوم مختلف ہوتے ہیں۔ ابتداءً یہ دو طرح کے ہیں: (۱)…عقلیہ (۲)…دینیہ شرعیہ۔ پھر عقلی علم کی دو قسمیں ہیں: (۱)…بدیہی (۲)…نظری۔ نظری علوم میں سے بعض دنیوی ہوتے ہیں اور بعض اُخروی۔
عقلی علم اور اس کی اقسام:
عقلی علم سے مراد وہ علم ہے جو عقلی طور پر ذہن میں آئے،تقلید اور قرآن وحدیث کے ذریعے حاصل ہونے والا علم مراد نہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
(1)…بدیہی:یہ علم کہاں سے اور کیسے حاصل ہوتا ہے اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔مثلاً ہرانسان کو یہ علم ہے کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر نہیں ہوسکتا اور ایک چیزایک ہی وقت حادث و قدیم یا موجود و معدوم نہیں ہوسکتی۔ اس طرح کا علم انسان کو بچپن میں خود ہی حاصل ہوجاتا ہے لیکن یہ کب اور کہاں سے حاصل ہوا اس کا ظاہری سبب کسی کی نظر میں نہیں ہوتا۔البتہ ہرانسان یہ ضرور جانتا ہے کہ اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پیدا کیا اور اس قابل بنایا۔
(2)…نظری واکتسابی: یہ علم غور وفکر کرنے اور سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
ان دونوں قسموں کو عقل بھی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اپنے اشعار میں ارشاد فرماتے ہیں:
رَأَیْتُ الْعَقْلَ عَقْلَیْنِ فَمَطْبُوْعٌ وَّ مَسْمُوْعٌ
وَّ لَا یَنْفَعُ مَسْمُوْعٌ اِذَا لَمْ یَکُ مَطْبُوْعٌ
کَمَا لَا تَنْفَعُ الشَّمْسُ وَضَوْءُ الْعَیْنِ مَمْنُوْعٌ