ترجمہ: تم ایک ایسے شخص ہو جسےمیں نے بے فائدہ امین بنادیا تو تم نے خیانت کردی اور بلا علم بات کہہ دی، لہٰذاہمارے درمیان جو معاملہ تھا اس کی وجہ سے تم خائن اور گناہ گار ہوئے۔
حکایت:چغل خوری باعث ندامت
ایک شخص نے عَمْرو بن عُبَیْد سے کہا کہ قبیلہ اُساوِرہ سے تعلُّق رکھنے والا ایک شخص اپنی گفتگو میں تمہاری برائیاں کرتا ہے۔ عمرو بن عبید نے کہا:تم نے اس کے ساتھ بیٹھنے کی رعایت نہیں کی کہ اس کی بات ہم تک پہنچادی اور میرا حق بھی ادا نہ کیا کہ میرے بھائی کی طرف سے مجھ تک وہ بات پہنچادی جسے میں نا پسند کر تا ہوں لیکن خیر! تم اسے بتا دینا کہ موت ہم دونوں کو آئے گی،قبر نے ہم دونوں کو دبانا ہے اور قیامت میں ہم دونوں اکٹھے ہوں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے مابین فیصلہ فرمادے گا اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
حکایت:چغل خور پرلعنت
ایک چغل خور نےوزیر اسماعیل بن عَبّاد کو ایک رُقْعہ بھیجا جس میں اس نے یتیم کے مال کی اطلاع دی تھی اور یتیم کے مال کے کثیر ہونے کے سبب اسے اس کے لینے پر اکسایا تھا۔ وزیر نے رقعہ کی پشت پر اس کے جواب میں لکھا:چغل خوری بری چیز ہے اگرچہ وہ بات درست ہی کیو ں نہ ہو، اگر تونے یہ رقعہ خیر خواہی کے ارادے سے بھیجا ہے تو اس میں تیرا خسارہ نَفْع سے زیادہ ہے اور اس بات سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ کہ ہم چھپی ہوئی چیز کی پردہ دری کو قبول کریں،اگر تو بڑھاپے کی پناہ میں نہ ہو تا توتیرے فعل کا جو تقاضا ہے اس کے سبب ہم ضرور ایسا کام کرتے جس سے تجھ کو عِبْر ت ہوتی،اے ملعون!عیب لگانے سے بچ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ عالِمُ الْغَیْبہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ مَیِّت پر رَحْم فرمائے،یتیم کے حال کو درست کرے،اس کے مال میں اضافہ فرمائے اور چغل خور پر لعنت کرے۔
حکمت بھرے مَدَنی پھول:
حضرت سیِّدُنا حکیم لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے اپنے بیٹے سے فرمایا:اے میرے بیٹے!میں تمہیں چند عادتیں اختیار کر نے کی وصیت کر تا ہوں اگر تم نے انہیں اپنا لیا توہمیشہ سردار رہو گے ،ہر ایک سے خوش اخلاقی سے