لوگوں سے لوگوں کی چغلی کھانے والا صحیح النسب نہیں ہے۔“ (1)یعنی وہ حلال کی اولاد نہیں ہے۔
حکایت:بادشاہِ وقت کو تنبیہ
اُمَوی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے پاس ایک شخص آیا اور کلام کی اجازت مانگی اور کہنے لگا:اے امیرالمؤمنین!میں آپ سے کچھ کلام کروں گا اگر چہ آپ کو برا لگےلیکن آپ صَبْر وتَحَمُّل سے کام لیجئے گا،اگر آپ نے اسے قبول کرلیا تو اس کے پیچھےآپ کی پسندیدہ بات ہے۔سلیمان نے کہا:کہو۔اس نے کہا: اے امیرالمؤمنین!آپ کو کچھ ایسے لوگوں نے گھیر رکھا ہے جنہوں نے آپ کی دنیا کو اپنےدین کے بدلے میں اور آپ کی رضا کو اپنے رب کی نا راضی کے بدلے میں خرید لیا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُعامَلے میں آ پ سے تو خوف رکھتے ہیں لیکن آپ کے معا ملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نہیں ڈرتے،آپ انہیں اس چیز پر ذمہ دار نہ بنائیےگا جس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو امین بنا یا ہے، جس چیز کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے حفاظت چاہی ہے وہ ان کی حفاظت میں نہ دیجئےگا کیونکہ یہ لوگ ایسے کام کرنے میں ہرگز کو تاہی نہیں کریں گے جن سے امت میں دھنسناہو، امانتیں ضائع ہوں اور عزتیں پامال ہوں اور ان کی بے حرمتی ہو، ان کے لئے آپ کا قرب پانے کی اعلیٰ چیز سرکشی اور چغلی ہے اورسب سے بڑا وسیلہ غیبت اور لوگوں کی برائیاں کرنا ہے،ان کے جرائم کے بارے میں تو آپ سے پو چھا جا ئے گا مگر آپ کے جرم کے بارے میں ان سے نہیں پو چھا جا ئے گا لہٰذا اپنی آخرت خراب کرکے ان کی دنیا مت سنوارئیے کیو نکہ سب سے زیادہ نقصان وہ شخص اٹھاتا ہے جو دوسرے کی دنیا کے بدلے اپنی آخرت کا سودا کر تا ہے۔
خائن اور گناہ گار:
سلیمان بن عبدالملک سےایک شخص نے زِیادْ اَلْاَعْجَم کی چغلی کھائی تواس نے دونوں کو صُلْح صفائی کیلئے جمع کیا۔ زیاد نے اس شخص کو مخاطب کرکے کہا:
فَاَنْتَ امْرُؤٌ اِمَّا ائْتَمَنْتُکَ خَالِیًا فَخُنْتَ وَاِمَّا قُلْتَ قَوْلًا بِلَا عِلْمٍ
فَاَنْتَ مِنَ الْاَمْرِ الَّذِی کَانَ بَیْنَنَا بِمَنْزِلَةٍ بَیْنَ الْخِیَانَةِ وَالْاِثْمِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المستدرک،کتاب الاحکام باب لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ عليه وسلم الراشی والمرتشی،۵/ ۱۴۰، حديث:۷۱۵۲ مفھومًا