Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
477 - 1245
مومن کی قَدْرومَنْزِلَت گھٹا نےوالی  عادت:
	حضرت سیِّدُنا محمد بن کَعْب قُرَظِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے عرض کی گئی:مومن کی کون سی عادت اس کی قَدْر ومنزلت گھٹاتی ہے؟فرمایا:زیادہ بولنا،راز فاش کرنا اور ہر ایک کی بات کوقبول کر لینا۔
حکایت :مجھے اپنی زبان سےخود کو برا کہنا پسند نہیں
	امیربصرہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ  بن عامر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  ایک شخص نے کہا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ فُلاں نے آپ کو بتا یا کہ میں نےآپ کی بُرائی کی ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا:ایسا ہی ہوا ہے۔اس نے کہا:تو آپ مجھے بتائیے کہ اس نے آپ سے کیا کہا تاکہ میں اس کے جھوٹ کو آپ کے سامنے ظاہر کردوں۔ارشاد فرمایا: مجھے اپنی زبان سےخود کو برا کہنا پسند نہیں ہے اور میرے لئے اتنا ہی کا فی ہے کہ میں اس کی بات کی تصدیق نہ کروں اور تم سے تعلق نہ توڑوں۔
	کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے سِعایَہ(یعنی چغلی) کا ذکر ہوا توارشاد فرمایا:ان حضرات کے مُتَعَلِّق تمہارا کیا خیال ہےجو چغل خوروں کے علاوہ ہر طبقے کے لوگوں کے سچ کی تعریف کرتے ہیں۔
چُغْلی کو دُرُست مان لینا زیادہ بُرا ہے:
	حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن زُبَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ہم سعایہ کے مقابلے میں سعایہ قبول کرنے کو زیادہ برا سمجھتے ہیں کیو نکہ سعایہ(یعنی چغلی کھانا)اِطِّلاع دینا ہے اور قبول کرنادرست مان لینا ہے اور جوشخص کسی چیز  پر رہنمائی کرتے ہوئے اس کی خبر دے وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جو اسےقبول کرتے ہوئے درست مان لے لہٰذا چغلی کھانے والے سے بچو۔اگر وہ اپنی بات میں سچاہے توسچ بولنے کے سبب ہی تو وہ کمینہ ہوا ہے کیونکہ اس نے (دوسرے کی)عزت کی حفاظت نہیں کی اور عیب نہیں چھپایا۔
	سِعَایَہ چغلی ہی ہے مگر یہ کہ جس طرف سے خوف ہو اُسے سِعَایَہ کا نام دیا جاتا ہے ۔
	مکی مدنی مصطفٰے،احمد مجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:”اَلسَّاعِیْ بِالنَّاسِ اِلَی النَّاسِ لِغَیْرِ رُشْدَةٍ یعنی