یُفْسِدُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ ؕ(پ۱،البقرة:۲۷)
جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظْلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوۡنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّؕ(پ۲۵،الشورٰی:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان: مواخذہ تو انہیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں۔
چغل خور انہیں میں سے ہے۔
بُرے شخص کی پہچان:
سرورِذیشان،محبوبِ رحمٰنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اِنَّ مِنْ شِرَارِالنَّاسِ مَنِ اتَّقَاہُ النَّاسُ لِشَرِّہٖ یعنی برے لوگوں میں سے ہے وہ شخص جس کے شر کی وجہ سے لوگ اس سے بچتے ہوں۔(1)
قاطع، جنت میں داخل نہیں ہوگا:
حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ یعنی قاطع جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ عرض کی گئی:قاطع کون ہے؟ارشاد فرمایا: لوگوں کے مابین اِخْتِلافات پیدا کرنے والا۔(2)
اور یہی چغل خور ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مرادقاطع رِحْم(رشتہ داری توڑنے والا) ہے۔
حکایت :امیر المؤمنین!مجھے معاف کر دیجئے
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے مُتَعَلِّق مروی ہے کہ ایک شخص نے آپ سےکسی کی چغلی کی تو آپ نے ارشاد فرمایا:اےفلاں!جو کچھ تم نے کہا ہے ہم اس کے بارے میں پوچھ گچھ کریں گے،اگر تم سچے ہوئے تو ہم تم سے ناراض ہو ں گے اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو ہم تمہیں سزا دیں گے اور اگر تم چاہو کہ ہم تمہیں معاف کردیں تو ہم تمہیں معاف کردیں گے۔ اس نے عرض کی:اے امیرالمؤمنین! مجھے معاف کر دیجئے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الادب،باب لم یکن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاحشا...الخ،۴/ ۱۰۸،حديث:۶۰۳۲
2…بخاری،کتاب الادب،باب اثم القاطع،۴/ ۹۷،حديث:۵۹۸۴