Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
474 - 1245
﴿3﴾…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رِضا کے لئے اس سے بغض رکھے کیونکہ چغل خور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ناپسند ہے اور جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ناپسند کرے اس سے بغض رکھنا واجب ہے۔
﴿4﴾…اپنے مسلمان بھائی یعنی جس کی غیبت کی گئی اس سے بدگمان نہ ہو کیو نکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶،الحجرات:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والوبہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔
﴿5﴾…جو بات تمہیں بتائی گئی  وہ تمہیں تَجَسُّس اور بحث پرنہ اُبھارے کہ تم اسے حقیقت سمجھنے لگ جاؤ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَجَسَّسُوۡا (پ۲۶،الحجرات:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور عیب نہ ڈھونڈھو ۔
﴿6﴾…جس بات سےتم چغل خور کو منع کر رہے ہو اسے اپنے لئے پسند نہ کرو اور نہ ہی اس کی چغلی آگے بیان کرو کہ یہ کہو:اس نے مجھ سے یہ یہ بات بیان کی۔ اس طرح تم چغل خور اور غیبت کرنے والے ہوجاؤ گے اور جس بات سے تم نے منع کیا خوداس کے کرنے والے بن جاؤ گے۔
سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا طرز عمل:
	مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمت با برکت میں ایک شخص حاضرہوااور اس نےکسی کے بارے میں کوئی مَنْفی بات کی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اگر تم چاہو تو ہم تمہارے مُعامَلے کی تحقیق کریں،اگر تم جھوٹے نکلے تو اس آیتِ مبارَکہ کے مِصْداق قرار پاؤ گے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا(پ۲۶،الحجرات:۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو۔
	اور اگر تم سچے ہو ئے تو یہ آیتِ مقدَّسہ تم پر صادق آ ئے گی:
ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾ (پ۲۹،القلم:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا۔
	اور اگرتم چاہو تو ہم تمہیں مُعاف کردیں۔اس نے عرض کی :اے امیرالمؤمنین! معاف کر دیجئے