Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
472 - 1245
حِکمت کا مَدَنی گلدستہ:
	منقول ہے کہ ایک شخص سات باتوں کو جاننےکے لئے ایک دانا کے پیچھے سات سو فَرْسَخ   کاطویل سفرطے کر کے گیا،جب اس کے پاس پہنچا تو کہا:میں آپ کے پاس اس علم کی خاطرآیا ہوں جس سے اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو نوازا ہے،آپ مجھے آسمان اور آسمان سے زیادہ بھاری چیز کے بارے میں بتائیے،زمین اور زمین سے زیادہ وسیع چیز کے بارے میں،پتھر اور پتھر سے زیادہ سخت چیز کے بارے میں،آگ اور آگ سے زیادہ گرم چیز کے بارے میں،زَمہریر اور زَمہریر سے زیادہ ٹھنڈی چیز کے بارے میں،سمندر اور سمندر سے زیا دہ بے فکر چیز کے بارے میں اور یتیم اور یتیم سے زیادہ حقیر کے بارے میں بتائیے؟دانا نے کہا:بے گناہ پر بُہتان باندھنا آسمان سے زیادہ بھا ری ہے،حق(یعنی سچائی) زمین سے زیادہ وسیع ہے،قناعت پسند دل سمندر سے زیادہ بے فکر ہے، حرص اور حسد آگ سے زیادہ گرم ہیں،کسی قریبی سے ضرورت کا پورا نہ ہونا زَمہریر سے زیادہ ٹھنڈا ہے، کافر کا دل پتھر سے زیادہ سخت ہے اور چغل خور کا معاملہ جب ظاہر ہوجائے تو وہ یتیم سے  زیادہ حقیر ہے۔
دوسری فصل:	چغلی کی تعریف اور اس سے چھٹکارے کی صورت
چغلی کی تعریف اور اس کی حقیقت:
	جان لیجئے! عموماً چغلی کسی کی بات اس شخص تک پہنچانے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں بات کہی گئی ہے جیسے آپ کہیں کہ  فلاں  تمہارے بارے میں یہ یہ بات  کہہ رہا تھا حالانکہ چغلی صرف اس کا نام نہیں بلکہ اس کی تعریف یہ ہے کہ نا پسندیدہ بات کو ظاہر کرنا خواہ اسے برا لگے جس نے کہا یا اسے جس کے بارے میں کہا گیا یا کسی تیسرےشخص کو،برابر ہےکہ وہ اِظْہار گفتگو کے ذریعے ہو یا لکھنے کے ذریعے یا اشارے کے ذریعے، جسے نقل کیا گیا وہ عمل ہو یا قول خواہ اس  کا تعلُّق منقول عنہ(یعنی جس سے بات نقل کی گئی ہے اس) کے عیب اور نَقْص سے ہو یا نہ ہو بلکہ چغلی کی حقیقت راز فاش کرنا اوراس بات سےپردہ ہٹادیناہے جس کے ظاہر ہونے کو انسان ناپسند کرتا ہو بلکہ آدمی لوگوں کےجوبھی ناپسندیدہ احوال دیکھےتو اسے اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہئے سوائے یہ کہ جسے بیان کرنے میں کسی مسلمان کو نفع ہویااس سےنقصان دورہو مثلاً جب وہ کسی کو دوسرے کا