وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان کے خلاف ایسی بات کی گواہی دے جو اس میں نہ ہو تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکاناجَہَنَّم میں بنالے۔(1)
منقول ہے کہ قبر کا ایک تہائی عذاب چغلی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
آٹھ لوگ جنّت میں نہیں جائیں گے:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہےکہ میٹھے میٹھے آقا،مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب جنّت کو پیدا فرمایاتو اس سے ارشاد فرمایا:کلام کر۔ اس نے کہا:جو میرے اند ر داخل ہو گا وہ خوش نصیب ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:میری عزت و جلال کی قسم! تجھ میں آٹھ قسم کے لوگ نہیں جائیں گے: (۱)شراب کا عادی(۲)زنا پراِصرار کرنے والا (۳)چغل خور (۴)دَیُّوث(2)(۵)ظالم کا مددگار (۶)مخنّث (۷)رشتہ داروں سے قَطع تعلُّق کرنے والا اور (۸)وہ شخص جو کہے:مجھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عہد ہے اگر میں یہ یہ کام نہ کروں اور پھر اسے نہ کرے۔(3)
چغل خور کی وجہ سے بارش نہ ہوئی:
حضرت سیِّدُنا کَعْبُ الْاحبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل جب قحط میں مبتلا ہو ئے تو حضرت سیِّدُنا موسٰی کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے متعدد مرتبہ بارش کی دعا کی مگر بارش نہ ہو ئی۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وحی کے ذریعے آپ سے فرمایا کہ میں تمہاری اور تمہارے ساتھ لوگوں کی دعا قبول نہیں کروں گا کیونکہ تم میں چغل خور موجود ہے جو چغلی پر مُصِر ہے۔ حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی:اے میرے ربّعَزَّ وَجَلَّ! مجھے بتاوہ کون ہے تاکہ اسےاپنے درمیان سے نکال دوں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اے موسٰی! میں تمہیں چغلی سے منع کرتا ہوں،لہٰذامیں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔پس سب نے مل کرتوبہ کی تو بارش ہوگئی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۷۱،حديث:۲۶۰
2…جولوگ باوُجُودِقدرت اپنی عورَتوں اورمَحارِم کو بے پردَگی سے مَنْع نہ کریں وہ ’’دَیُّوث‘‘ہیں۔
(پردے کے بارے میں سوال جواب،ص۶۵،مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ،باب المدینہ کراچی)
3…جامع الاحاديث القدسیة،ص۳۸،حديث:۷۲۹