وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ لو گ ہیں جو تم میں سب سے زیادہ خوش اخلاق ہیں،جن کے ساتھ رہنے والا ان سے اَذِیَّت نہیں پاتا ،جولوگوں سےاورلوگ ان سے محبت کرتے ہیں اور تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ لوگ وہ ہیں جو چغلیاں کھاتے،دوستوں کے درمِیان جدائی ڈالتے اور پاکباز لوگوں کے عیب تلاش کرتے ہیں۔(1)
شریر لوگ:
دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”کیا میں تمہارے درمیان موجود شریر لوگوں کے بارے میں تمہیں نہ بتاؤں؟“ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی:”ضرور۔“ ارشاد فرمایا:”چغل خور، دوستوں کے درمیان فساد ڈالنے والے اور پاکباز لوگوں کے عیب تلاش کرنے والے۔“(2)
ناحق عیب لگانے کے متعلق دو وعیدیں:
٭…حضرت سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ مصطفٰے جانِ رحمت، شفعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی مسلمان کے بارے میں کو ئی بات پھیلائے تا کہ اس کے سبب اسے ناحق عیب لگائےتو قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے نارِ جہنّم میں عیب دار کر دے گا۔(3)
٭…حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبیوں کے سَرور،مالک بحروبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جو کسی شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات پھیلائے جواس میں نہ ہو اور اس کے سبب دنیا میں اس پر عیب لگائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حق ہے کہ بروز قیامت اسے نارِ جہنّم میں پگھلادے۔(4)
مسلمان کے خلاف جھوٹی گواہی دینے کی وعید:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:حضورنبیّ پاک،صاحب ِلولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط،۵/ ۳۸۷،حديث:۷۶۹۷
2…المسندللامام احمدبن حنبل،من حديث اسماء ابنة يزيد،۱۰/ ۴۴۲،حديث:۲۷۶۷۰
3…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۶۹،حديث:۲۵۸
4…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۷۰،حديث:۲۵۹