Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
47 - 1245
 جاتے ہیں جبکہ مسلمان درست اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ انہیں صحیح اور سچے عقائد ہی بتائے جاتے ہیں۔
٭…دوسرا طریقہ: تصدیق حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کو گھر سے زید کی آواز سنائی دے تو اس آواز کو دلیل بناکر آپ زید کے گھر میں ہونے کا یقین کرلیں۔ یہ تصدیق پہلی والی یعنی کسی کی بات سن کر حاصل ہونے والی تصدیق سے زیادہ قوی ہے۔ مثلاً جب آپ سے کہا جائے کہ زید گھر میں ہے پھر آپ خود زید کی آواز سن لیں تو آپ کا یقین پختہ ہوجاتا ہے کیونکہ انسان نے جس سے ملاقات کی ہو، اس کی آواز سنی ہو تو اس کی آواز اس کی شکل وصورت پر دلالت کرتی ہے اور دل تصدیق کرتا ہے کہ یہ آواز اسی شخص کی ہے۔
	یہ ایمان کے دوسرے درجے کی مثال ہے جس میں دلیل پر بھی غور وفکرہوتی ہے۔ غلطی کا امکان اس صورت میں بھی رہتا ہے کیونکہ بعض لوگوں کی آوازیں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں اور کسی کی نقل بھی اتاری جاسکتی ہے حالانکہ سننے والے کاذہن اس طرف جاتا ہی نہیں کیونکہ وہ نہ اسے تہمت کا مقام سمجھتا ہے نہ اس مکاری اور دھوکا دہی سے واقف ہوتا ہے۔
٭…تیسرا طریقہ: تصدیق حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ خود گھر میں داخل ہو جائیں، زید کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں  اور اس کا مشاہدہ کریں۔ اسے حقیقی معرفت اور عینُ الیقین کہتے ہیں۔
	یہ مُقَرَّبِیْن،صِدِّیْقیْن اور عارِفِیْن کی معرفت کی مثال ہے کیونکہ انہیں مشاہدہ حق کے ذریعے ایمان حاصل ہوتا ہے۔ ان کا ایمان عوام اورعلمائے متکلمین کے ایمان سے ممتاز ہے کیونکہ اس میں خطا کا کوئی امکان نہیں۔
	البتہ ان کے علوم و کشف میں تفاوت کے سبب ان کےدرجات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کشف و معرفت میں تفاوت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص  زید کو قریب سے، گھر کے صحن میں اور سورج کی روشنی میں دیکھتا ہے، اسے تو کامل ادراک حاصل ہوگا۔ دوسرااسے دور سے، رات کے وقت دیکھتا ہے، اس کو زید کی صورت تو نظر آئے گی جس کے سبب اسے زید کی موجودگی کا یقین حاصل ہوجائے گا لیکن اس کی شکل میں موجود باریک اور پوشیدہ راز وں سے واقف نہیں ہوسکے گا۔ اُمورِاِلٰہیہ کے مشاہدے میں بھی اسی طرح فرق ہوتا ہے۔
	اسی طرح معرفت کی بلندیوں تک پہنچانے والے علوم میں تفاوت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص ایک ہی گھر زید، عمرو، بکر اور دیگر لوگوں کو بھی دیکھ رہا ہوتا ہے جبکہ دوسرا صرف زید کو دیکھتا ہے۔ یقینًا یہ معرفت