Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
469 - 1245
چغلی قرآن کی رو سے:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۙ﴿۱﴾ (پ۳۰،الھمزة:۱)
ترجمۂ کنز الایمان: خرابی ہے اس کے لئے جو لوگوں کے منھ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے۔
	اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہُمَزَۃٍ ‘‘سے مراد چغل خور ہے۔
	اور ارشاد فرماتا ہے:
حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۚ﴿۴﴾ (پ۳۰،اللھب:۴)
ترجمۂ کنز الایمان: لکڑیوں کا گٹّھا سر پر اٹھائے۔
	اس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ وہ (یعنی ابولہب کی بیوی)چغل خوری کرتی اور باتوں کو اٹھائے پھرتی تھی۔
	نیزارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَخَانَتٰہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللہِ شَیْـًٔا (پ۲۸،التحریم:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: پھر انہوں نے ان سے دغا کی تو وہ اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ آئے۔
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا لوطعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے یہاں جب بھی مہمان آتے تو آپ کی بیوی اپنی قوم کوان کے آنے کی خبر دیتی اور حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بیوی ان کے بارے میں اپنی قوم سے کہتی کہ یہ مجنون ہیں۔
چغل خور جنت میں نہیں جائے گا:
	سرکارِ والا تَبارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّام یعنی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(1) دوسری حدیث میں ہے:’’لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات‘‘۔قَتّات سے مُراد بھی چُغْل خور ہے۔
چغل خور ربّ تعالیٰ کو ناپسند ہے:
	حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبیّ رحمت،شفیع اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب الايمان،باب بيان غلظ تحريم النميمة،ص۶۶،حديث:۱۰۵