سے تعلُّق توڑے اس سے جوڑیں اور جو آپ کو محروم کرے اسے عطا کریں۔“(1)
غیبت کرنے والے کو تحفہ:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو کسی نے کہا کہ فلاں نے آپ کی غیبت کی ہے تو آپ نے غیبت کر نے والے آدمی کو کھجوروں کا ایک تھال بھر کر روانہ کیا اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے مجھے اپنی نیکیاں ہَدِیّہ کی ہیں تو میں نے چاہا کہ آپ کو اس کا بدلہ دے دوں اور مجھے معاف کر دیجئے گا کیو نکہ میں مکمل طورپر آپ کو اس کا بدلہ دینے پر قدرت نہیں رکھتا۔
آفت نمبر16: چغل خوری(اس میں دو فصلیں ہیں)
پہلی فصل: چغل خوری کے مُتَعَلِّق آیات وروایات
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾ (پ۲۹،القلم:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا۔
اور فرماتا ہے:
عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ ﴿ۙ۱۳﴾ (پ۲۹،القلم:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان: دُرُشت خُو اس سب پر طُرّہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا۔
زَنِیم سے مراد:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”زَنیم سے مرادوہ وَلَدُالزِّنا(یعنی حرام کی اولاد) ہے جو بات کو نہ چھپائے۔“آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاسی فرمان:” عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ ﴿ۙ۱۳﴾ “سے اخذ کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ فرمایاکہ ہر وہ شخص جو بات کو نہ چھپائے اور چغلی کھائے تو یہ اس بات پر دلیل ہے کہ وہ وَلَدُ الزِّنا ہے۔زنیم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے نسب میں شک ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الدرالمنثور،پ۹،سورة الاعراف :۱۹۹،۳/ ۶۲۸