Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
467 - 1245
عاجز ہے کہ وہ ابوضَمْضَم کی طرح ہو،جب وہ اپنے گھر سے نکلتا تو کہتا: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں نے اپنی عزت لوگوں پر صَدَقَہ کردی“(1) کا کیا مطلب ہےاور عزت کیسےصدقہ کی جا تی ہے اورجو اسے صدقہ کردے تو کیا اس کی آبروریزی کرنا جا ئز ہو جا تا ہے اوراگر  اس کا صدقہ نا فذ نہیں ہو تا تو اس پر ابھارنے کے کیا معنی ہیں؟
	ہم کہتے ہیں:اس کا معنی یہ ہے کہ میں  قیامت میں اس سےاپنے چھینے ہوئے حق کا مطالبہ نہیں کرو ں گا اور نہ  ہی اس سے جھگڑا کروں گا۔معلوم ہوا کہ  اس کے سبَب غیبت حلال نہیں ہو جائے گی اور نہ ہی ظُلْم ساقِط ہوگا کیو نکہ یہ قبل از وُقوع معاف کرنا ہے۔ البتہ یہ وعدہ ہے اور اس کے لئے اسے پورا کرنے کا عزم کرنا جا ئز ہے کہ وہ اس سے جھگڑا نہیں کرے گا ،اگر وہ اس  وعدےسےرجوع کرلے اور جھگڑا کرے تو قیاس یہ ہے کہ دیگر حُقُوق کی طرح اس کا بھی اسےضرورحق حاصل ہوگابلکہ فُقہائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس بات کی صَراحت کی ہے کہ جو اپنے اوپرزنا کی تہمت لگانے کی اجازت دیدےتو حَدِّقَذ ف کے سلسلے میں اس کا حق ساقط نہیں ہوگا۔ اسی طرح آخرت کے حقوق بھی دنیا کے حقوق کی طرح ہیں،خلاصہ یہ کہ معاف کردینابہتر ہے۔
معاف  کرنے کی فضیلت:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جب اُمتیں بروز قیامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حضور گھٹنوں کے بَل گِری  ہوں گی تواعلان کیا جا ئے گا:”جس کا اجر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذمہ ٔ کرم پر ہے وہ کھڑا ہوجائے۔“ تو صرف وہی لو گ کھڑے ہوں گے جو دنیا میں لوگوں کو معاف کر دیا کرتے تھے۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَاۡمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾(پ۹،الاعراف:۱۹۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منھ پھیر لو۔
	سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا:”اے جبریل!یہ معاف کرنا کیا ہے؟“ عرض کی:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کو حکم فرماتا ہے کہ جو آپ پر ظُلْم کرے اسے معاف کردیں،جو آپ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاول فی الاخلاق والافعال المحمودة،۳/ ۱۵۲،حديث:۷۰۰۸