تبرع فضل وکرم ہوتا ہے واجب نہیں ہو تا لیکن معاف کرنا اچھا عمل ہے۔
جس کی غیبت کی اس سے معافی مانگنے کا طریقہ:
معافی مانگنےکا طریقہ یہ ہے کہ اس کی خوب تعریف کرے اور اس سے بہت زیادہ محبت کا اظہار کرے اور یونہی کرتا رہے حتی کہ اس کا دل راضی ہوجائے۔اگر اس کے باوجود اس کا دل راضی نہ ہو تو معافی مانگنا اور محبت کا اظہار کرنا بھی نیکی ہے اس پراسے اجر ملے گا جو بروز قیامت غیبت کے گناہ کے مقابلے میں ہو گا۔
بعض بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن معا ف نہیں کر تے تھے۔چنانچہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ شے کو میں کبھی حلال نہیں کر سکتا:
حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جو (میری عزت گھٹا کر)مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف نہیں کروں گا۔
حضرت سیِّدُنا اِمام ابْنِ سِیْرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:غیبت میں نے حرام نہیں کی کہ میں معاف کرکےکسی کے لئے اسے حلال کردوں، بے شک غیبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حرا م کی ہے اور جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حرام قرار دیا ہے میں اسے کبھی حلال نہیں کر سکتا۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر تم کہو کہ سر کارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاس فرمان”جس نے اپنے بھائی پر ظلم کیا ہو اسے چاہئے کہ اس سے ظلم کو حلال کروا لے“ کا کیا مطلب ہےحالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ شے کو حلال کرنا ممکن نہیں ہے؟
ہم کہتے ہیں کہ حلال کروانے سے مراد ظلم سے معافی مانگنا ہے نہ یہ کہ حرام حلال میں تبدیل ہوجائے گا اور جو بات حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے فرمائی ہے وہ غیبت کرنے سے پہلے پر محمول کی جائے گی کیو نکہ ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے لئے غیبت کو حلال کر دیں۔
اپنی عزت لوگوں پر صدقہ کرنے کا مطلب:
اگر تم کہو کہ حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاس فرمان:” کیا تم میں سے کوئی اس بات سے