Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
465 - 1245
	حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں:تمہارا اپنے بھائی کی غیبت کرنے کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کی تعریف کرو اور اس کے لئے  دعائے خیر کرو۔
جس کی غیبت کی اس سے معافی مانگنا ضروری ہے:
	حضرت سیِّدُنا عطاء بن ابی رباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے غیبت سے توبہ کے بارے میں پو چھا گیا تو ارشاد فرمایا کہ جس کی تم نے غیبت کی ہے اس کے پاس جاؤاور اس سے کہو:میں نے جو کہا  وہ جھوٹ تھا،میں نے تم پر ظلم کیا اور ایک براکا م کیا،اگر چاہو تو اپنا حق لے لو اور چاہو تو معاف کر دو۔
	یہی طریقہ زیادہ صحیح ہے،اور کسی کا یہ کہنا”عزت کا کوئی عوض نہیں ہوتا لہٰذا اس سلسلے میں معافی مانگنا ضروری نہیں البتہ مال کا معاملہ اس کے برخلاف ہے“تو یہ ایک کمزور بات ہے کیو نکہ عزت کے معاملے میں کبھی  حَدِّقَذف بھی واجب ہوجاتی اور اس کا مطالبہ ثابت ہوجا تا ہےبلکہ حدیث پاک میں ہے کہ آقائے نامدار، محبوب ربِّ غَفَّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے عزت یا ما ل کے معاملے میں اپنے بھائی پر ظلم کیا ہو اسے چاہئے کہ اس دن کے آنے سے پہلےپہلے اس سے معافی مانگ لے جس دن نہ کوئی دینار ہوگا نہ درہم، (اس دن)اس کی نیکیوں میں سے لے لیا جائے گا اگر اس کی نیکیاں نہ ہو ئیں تو مظلوم کے گناہوں سے لے کر اس کے گناہوں میں اضافہ کر دیا جا ئے گا۔“(1)
	ایک عورت نےکسی دوسری عورت کے بارے میں کہا کہ وہ لمبے دامن والی ہے،اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا:تم نے اس کی غیبت کی لہٰذا اس سے معافی مانگو۔
	جس کی غیبت کی اگر اس کے پاس جانا ممکن ہو تو اس سے معافی مانگنا ضروری ہے،اگر وہ غائب ہو یا اس کا انتقال ہوگیا ہو تو اس کے لئے کثرت سے استغفار اور دعا کرے اور بکثرت نیکیاں کرے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر پوچھا جائے کہ معاف کرنا واجب ہے؟ تو میں کہتا ہوں: نہیں۔کیو نکہ یہ تَبرُّع(یعنی احسان)ہے اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب المظالم والغضب،باب من کانت له مظلمة عندالرجل...الخ،۲/ ۱۲۸،حديث:۲۴۴۹