ان تینوں میں یہ بات مشترک ہے کہ یہ لوگ سرِعام گناہ کرتے ہیں اور بعض اوقات اس پر فخر بھی کرتے ہیں تو کیسے وہ اس کاذکر کئے جانے کو نا پسند کریں گے حالانکہ ان کا قصد ہی اسے ظاہر کرنے کا ہے۔ لیکن جو برائیاں وہ لوگ سرِعام نہیں کرتے انہیں بیان کرنا گناہ ہے۔چنانچہ
حضرت سیِّدُنا عوف بن ابوجمیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا اِمام محمدبن سِیْرِین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضرہوااور ان کے پاس حجاج بن یوسف کو برا بھلا کہاتو آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ فیصلہ فرمانے والا اور انصاف کرنے والا ہے،وہ حجاج کی غیبت کرنے والے شخص سے حجاج کا بدلہ لے گا جیسا کہ حجاج سے ان لوگوں کا بدلہ لے گا جن پر اس نے ظلم کیا اور کل بروز قیامت جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کرو گے تو تمہارا سب سے چھوٹا گناہ حجاج کے سب سے بڑے گناہ سے بڑھ کر تم پر سخت ہوسکتا ہے۔
آٹھویں فصل: غیبت کا کَفّارہ
جان لیجئے! غیبت کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ نادم ہوکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی با رگا ہ میں توبہ کرے اور اپنے کئے پر افسوس کرے تا کہ اس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق سے باہر آ جائے پھر جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی طلب کرے تاکہ وہ معاف کردے اور یوں وہ اپنی زیادتی سے بریُّ الذِّمہ ہوجائے۔ معافی مانگتے وقت اسے غمگین، افسردہ اور اپنے فعل پر شرمندہ ہونا چاہئے کیونکہ بعض اوقات ریا کا ر بھی اپنی پرہیز گاری کے اظہار کے لئے معافی ما نگتا ہے حالانکہ دلی طورپر وہ نا دم نہیں ہو تااور اس طرح وہ ایک دوسرے گناہ میں مبتلا ہوجا تا ہے۔
جس کی غیبت کی اس کیلئے مغفرت طلب کرے:
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:”جس کی غیبت کی ہے اس کے لئے دعائے مغفرت کرنا کافی ہے معاف کروانے کی حاجت نہیں۔“ ممکن ہے اس معاملے میں وہ حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی روایت سے دلیل پکڑتے ہوں۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”کَفَّارَةُ مَنِ اغْتَـبْـتَہٗ اَنْ تَسْتَغْفِرَ لَـہٗ یعنی غیبت کے کفارے میں یہ ہے کہ جس کی تم نے غیبت کی ہے اُس کے لئے مغفرت طلب کرو۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۸۸،حديث:۲۹۳