Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
463 - 1245
	علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کی اجازت پہچان کی ضرورت کی وجہ سے دی ہے۔ خیال رہے کہ یہ اسی وقت جائز ہے جبکہ کوئی شخص ایسے لقب سے اتنا مشہور ہو کہ وہ اس لقب سے پکارے جانے کو برا نہ جانے، ہاں! اگر اس لقب کے علاوہ کسی اچھے لفظ سے اسے پکارنا ممکن ہو تو وہی زیادہ بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیب کےذکر سے بچتے ہوئے اندھے کو ”بَصِیْر یعنی دیکھنے والا“ کہا جا تا ہے(اور مراد دل کے ساتھ دیکھنے والالیا جا تا ہے)۔
﴿6﴾…سرِعام ربّ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا:(جن کی برائی بیان کرنا غیبت نہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے) جیسے ہیجڑا، شراب کی محفل قائم کرنے والا، سرِعام شراب پینے والا، لوگوں کا مال لینے کے لئےانہیں اغوا  کر نے والا اور یہ لوگ ان برائیوں میں اس قدر بےباک ہوں کہ ان برائیوں کے ساتھ ان کا ذکر کیا جا ئے تو نہ شرم محسوس کرتے ہوں نہ ہی انہیں ناگوار گزرتا ہو۔ ان لوگوں کی سرِعام کی جانے والی برائیوں کا ذکر کرنا کوئی گناہ نہیں۔
	رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:مَنْ اَلْقٰی جِلْبَابَ الْحَیَآءِ عَنْ وَجْھِہٖ فَلَا غِیْبَـةَ لَہ یعنی جو اپنے چہرے سے حیا کی چادر اُتار لے اس کی کوئی غیبت نہیں۔(1)
علانیہ گناہ کرنے والے کی مَذمت کرنا غیبت نہیں:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ”فاجر کی کوئی عزت نہیں۔“اس سے آپ کی مراد وہ فاجر ہے جو سرِعام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کرتاہو، چھپ کر نافرمانی کرنے والا مراد نہیں کیونکہ چھپ کر نافرمانی کرنے والے کی عزت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
	حضرت سیِّدُنا صَلْت بن طَرِیْف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پو چھا:”جو فاسق علانیہ گناہ کر تا ہےاگر میں اس کا ذکر اُس برائی کے ساتھ کروں جو اس میں موجود ہے تو کیا یہ اس کی غیبت ہو گی؟“فرمایا:”نہیں،اس کی کوئی عزت نہیں۔“
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ارشاد فرمایا کہ تین شخصوں کی برائی کرنا غیبت نہیں: (۱)…نفسانی خواہشات پر چلنے والا(۲)…علانیہ گناہ کرنے والا اور (۳)…ظالم حاکم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السنن الکبری للبيهقی،کتاب الشهادات،باب الرجل من اهل الفقه...الخ،۱۰/ ۳۵۴،حديث:۲۰۹۱۵