اسی طرح کو ئی شخص غلا م خریدرہا ہواور تم غلام کے چوری کرنے یا اس کے فسق یا اس کےکسی دوسرے عیب کو جانتے ہو تو تمہارے لئےان باتوں کا ذکر کرنا جا ئز ہے کیو نکہ تمہارے خاموش رہنے میں خریدار کا نقصان ہے اوربتانے میں غلام کااورخریدارغلام کے مقابلے میں اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی رعایت کی جائے۔ ایسے ہی گواہوں کے بارے میں چھا ن پھٹک کرنے والے شخص سے جب گواہ کے بارے میں پو چھا جائے تو اگر وہ عیب جانتا ہو تو اس کے لئے عیب بیان کر نا جا ئز ہے۔
فاجر کا پردہ فاش کرو:
یونہی جس سےشادی کے سلسلےیا کسی کے پاس امانت رکھوانے کے بارے میں رائے طلب کی گئی تو اس کے لئے جائز ہے کہ جو بات وہ جانتا ہو بتادےجبکہ مقصود مشورہ مانگنے والے کی خیر خواہی ہو نہ کہ برائی۔ اس سلسلے اگر اسے یہ معلوم ہو کہ صرف اتنا کہنے سے ہی وہ شادی نہیں کرے گا کہ وہ عورت تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہے تو یہی واجب ہے اور اسی میں کفا یت ہےلیکن اگر وہ جانتا ہو کہ جب تک صراحت کے ساتھ عیب نہیں بیان کرے گا وہ شادی سے نہیں رکے گا تو اس کے لئے صراحت کے سا تھ عیب بیان کر نا جائز ہے کیونکہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”کیا فاجر کا ذکر کرنے سے رکتے ہو،اس کا پردہ فاش کرو تاکہ لوگ اسے پہچانیں،اس میں مو جود برائی کے ساتھ اس کا ذکر کرو تاکہ لو گ اس سے بچیں۔“(1)
تین شخصوں کی برائی کرناغیبت نہیں:
بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:تین شخصوں کی غیبت نہیں:(۱)…ظالم حاکم (۲)…بدعتی اور (۳)…سرعام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرنے والا۔
﴿5﴾…انسان مشہور ایسے لقب سے ہو جس کا معنٰی عیب ظاہر کرتا ہو:جیسے ”اَعْرَج یعنی لنگڑا“اور ”اَعْمَش یعنی کمزور نظر والا“۔ چنانچہ جو یہ کہے:”رَوٰی اَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ وَسَلْمَانُ عَنِ الْاَعْمَش یعنی حضرت ابوزناد نے امام اعرج سے اور حضرت سلمان نے امام اعمش سے روایت کیا۔“ یا اس جیسے دیگر القاب سے پکارے تو اس پر کو ئی گناہ نہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۵۰،حديث:۲۲۱