چنانچہ انہوں نے توبہ کرلی۔معلوم ہوا کہ جو بات امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تک پہنچی آپ نے اسے غیبت نہ سمجھا کیونکہ خبر پہنچانے والے کا مقصد یہ تھا کہ آپ انہیں اس سے روک دیں گے اورجس قدر آپ کی نصیحت ان کے لئےنفع بخش ہو سکتی ہے اتنی کسی دوسرے کی نہیں ہوسکتی اور غیبت کی اجازت صرف صحیح مقصد کی وجہ سے ہے اس کے علاوہ حرام ہے۔
﴿3﴾…فتوٰی طلب کرنا: جیسے کوئی شخص کسی مفتی صاحب سےسوال کرےکہ میرے والدیا زوجہ یا بھائی مجھ پر ظلم کرتے ہیں تو میں بچنے کے لئے کیا طریقہ کاراختیار کروں؟اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ وہ اشارہً یوں پوچھے: آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس پر اس کے والد یا بھائی یا زوجہ ظلم کر تے ہیں؟البتہ تعیین کی اس قَدْر اجازت ہے۔چنانچہ
شوہر خرچ کم دے تو…..؟
حضرت سَیِّدَتُنا ہندبنْتِ عُتْبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی کہ(میرےشوہر)حضرت سیِّدُنا ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بخیل ہیں، مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کا فی ہو کیا میں ان کےمال سے ان کی لا علمی میں کچھ لے سکتی ہوں؟ ارشادفرمایا:دستور کے مطابق اتنا مال لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو۔(1)
انہوں نےبخل اور خود پراور اپنی اولاد پر ہونے والے ظلم کا تذکرہ کیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں نہیں روکا کیونکہ ان کا مقصد مسئلہ پو چھنا تھا۔
﴿4﴾…مسلمان کو شر سے بچانا: چنانچہ جب تم بدعتی یافاسق کے پاس کسی فقیہہ کی آمد ورفت دیکھو اورتمہیں یہ خوف ہو کہ وہ بھی بدعت یا فسق میں مبتلا ہو جا ئے گا تو تمہارے لئے اس(بدعتی یا فاسق) کی بدعت اوراس کے فسق کا انکشاف کرنا جا ئز ہے جبکہ اس کا باعث صرف اس بات کا خوف ہو کہ بدعت اور فسق اس فقیہہ کے اندر سرایت نہ کر جا ئے کوئی اور سبب نہ ہولیکن یہ دھو کے کی جگہ ہے کیو نکہ کبھی اس کا باعث حسد ہو تا ہے اور شیطان اسے مخلوق پر شفقت کے اظہار کےصورت میں پیش کرتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب البيوع،باب من اجری امرالامصار...الخ،۲/ ۴۶،حديث:۲۲۱۱