Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
460 - 1245
ظلم کے متعلق تین  فرامین مصطفٰے:
﴿1﴾…اِنَّ لِصَاحِبِ الْحَـقِّ مَقَالًا یعنی بے شک حقدار کوگفتگو کرنے کا حق  ہے۔(1)
﴿2﴾…مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْم یعنی غنی کا(قدرت کے باوجود)ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (2)
﴿3﴾…لَیُّ الْوَاجِدِ یُحِلُّ عَقُوْبَتَہٗ وَعِرْضَہٗ یعنی مالدارآدمی کا(قدرت کے باوجود) تاخیرکرنا اس کی سزا اور عزت کو حلا ل کردیتا ہے۔ (3)  (4)
﴿2﴾…برائی ختم کرنے اور گناہ گار کی اصلاح کے لئے(حاکم وغیرہ کی) مدد چاہنا: جیساکہ روایت میں ہے حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یا حضرت سیِّدُنا طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزرے۔آپ نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا تو آپ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوئےاور اس کا ذکر کیاتو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کے پاس اصلاح کی غرض سے تشریف لے گئے۔
	صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نزدیک یہ غیبت نہ تھی۔
یہ غیبت نہیں:
	اسی طرح جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو یہ خبر ملی کہ ابوجندل ملک شام میں شراب کے عادی ہو گئے ہیں تو آپ نے انہیں مکتوب لکھا:بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾ تَنۡزِیۡلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیۡدِ الْعِقَابِ ۙ(پ۲۴،المؤمن:۱ تا ۳)
ترجمۂ کنز الایمان: یہ کتاب اتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزّت والا علم والا گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا سخت عذاب کرنے والا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الوکالة،باب الوکالة فی قضاء الديون،۲/ ۸۰،حديث:۲۳۰۶
2…بخاری،کتاب  فی الاستقراض...الخ،باب مطل الغنی ظلم،۲/ ۱۰۹،حديث:۲۴۰۰
3…سنن ابی داود،کتاب الاقضية،باب فی الحبس فی الدين وغيره،۳/ ۴۳۸،حديث:۳۶۲۸
4… علامہ سیِّد محمد بن محمد مرتضٰی زَبیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: سز ا حلال ہو نے سے مراد یہ ہے کہ قاضی بطورتعزیر اسے قید کرسکتا اورمار سکتا ہے اور عزت حلال ہو نے سے مراد یہ ہے کہ قرض دینے والا اسے ظالم وغیرہ ایسے الفاظ کہہ سکتا ہے جن میں فحش اور تہمت نہ ہو۔ (اتحاف  السادة المتقین،۹/۳۲۹ ملخصًا)