دوسرا درجہ:علمائے متکلمین کا ایمان ہے۔ اس میں تقلید کے ساتھ ساتھ دلائل پر بھی نظر ہوتی ہے۔ یہ عوامی ایمان کے درجے سے کچھ قریب ہے۔تیسرا درجہ: عارفین کا ایمان ہے۔ اس طبقے کو نورِیقین و معرفت کی بدولت مشاہدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
تصدیق حاصل کرنے کے طریقے اور ایمان کی مثالیں:
ایمان کے مذکورہ درجوں کی وضاحت ایک مثال کے ذریعے بیان کی جاتی ہے۔ فرض کیجئے آپ کو تصدیق کرنی ہے کہ واقعی زید گھر میں ہے تو اس بات کی تصدیق کے تین طریقے ہیں:
٭…پہلا طریقہ: یہ ہے کہ خبر دینے والے کی سچائی آپ کی نظر میں تجربے سے ثابت ہو، نہ تو کبھی اسے جھوٹ بولتے دیکھا گیا ہو اور نہ ہی جھوٹ کی نسبت اس کی طرف کی گئی ہو بلکہ دل اس کی طرف سے ایسا مطمئن ہو کہ اس کی خبر سنتے ہی یقین حاصل ہوجائے۔
یہی مثال ہے تقلیدی اور عوامی ایمان کی۔ کیونکہ بچہ جب کچھ سمجھدار ہوتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وجود، اس کے علم، ارادہ، قدرت اور تمام صفات نیز انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی بعثت اور ان کے لائے ہوئے احکامات کے بارے میں جیسا اپنے ماں باپ سے سنتا ہے اس پر یقین کرلیتا ہے اور ثابت قدم رہتا ہے۔ ماں باپ اور اپنے دیگر بڑوں کے متعلق بچے کو ایسا حُسنِ ظن ہوتا ہے کہ ان کی بتائی ہوئی بات کے خلاف اس کے دل میں کوئی بات آتی ہی نہیں۔ یہ ایمان آخرت میں نجات کا باعث تو ہے لیکن ایسا ایمان رکھنے والا اصحابِ یمین کے کمزور لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے مُقَرَّبِیْن کے درجے پر فائز نہیں ہوتا(1)کیونکہ ایسے شخص پر نہ کشف ہوتا ہے، نہ اسے نگاہِ بصیرت حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی نور یقین و معرفت کے سبب اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے۔ نیز سنی سنائی ان اعتقادی باتوں میں غلطی کا امکان بھی ہوتاہے کہ یہود ونصاری اپنے ماں باپ سے جو اعتقادی باتیں سنتے ہیں انہی پر یقین رکھتے ہیں حالانکہ ان کا اعتقاد غلط ہے کیونکہ انہیں غلط عقائد ہی بتائے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… اصحاب یمین سے اس آیتِ مبارکہ ’’ فَاَصْحٰبُ الْمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸﴾ترجمۂ کنزالایمان:تودہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے۔‘‘ (پ۲۷،الواقعة:۸) اورمُقَرَّبِیْن سے ان آیاتِ مُقَدَّسہ’’ وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿۱۰﴾ۙ اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾ ترجمۂ کنزالایمان:اورجوسبقت لے گئے وہ تو سبقت ہی لے گئےوہی مقرب بارگاہ ہیں۔‘‘(پ۲۷، الواقعة:۱۱،۱۰)کی طرف اشارہ ہے۔