تَجَسُّس بد گمانی کا نتیجہ ہے:
بدگمانی کے نتائج میں سے تجسس بھی ہے کیو نکہ دل صرف گمان پر صبر نہیں کرتا بلکہ یقین کی تلاش میں رہتا ہے اور اس طرح تَجَسُّس میں مشغول ہو جا تا ہے حالانکہ اس سے بھی منع کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فر ماتا ہے:
وَ لَا تَجَسَّسُوۡا (پ۲۶،الحجرات:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور عیب نہ ڈھونڈھو ۔
معلوم ہوا کہ ایک ہی آیت میں غیبت ،بد گمانی اور تجسس سے منع کیا گیا ہے۔
تَجَسُّس کا معنٰی:
تجسس کا معنیٰ ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کو اس کے پردے کے نیچے نہ چھوڑا جا ئے اورمطلع ہونے اور پردہ ہٹانے کی کو شش کی جائے حتٰی کہ اس کے سامنے وہ بات کھل جائے کہ اگر اُس سے چھپی رہتی تو اس کا دل اور دین زیا دہ محفوظ رہتا ۔
ہم نے تجسس کے حکم اور اس کی حقیقت کو ”اَمْر بِالْمَعْرُوْف وَنَہی عَنِ الْمُنْکَر“ کے بیان میں ذکر کردیا ہے۔
ساتویں فصل: غیبت جائز ہونے کی وجوہات
جان لیجئے! دوسرے کی برائی بیان کر نے کی اجازت شرعاً کسی صحیح غرض کی وجہ سے ہوتی ہے اور کسی غرضِ صحیح کی بنا پر ہی دوسرے کی برائی(غیبت) کرنا درست ہے، اس غیبت کا گناہ نہیں۔ یہ اغراض چھ ہیں:
﴿1﴾…مظلوم کا شکایت(کرکے اپنا حق حاصل) کرنا:خیال رہے جو شخص مظلوم نہ ہو وہ اگر قاضی کے متعلق ظلم ،خیانت اوررشوت لینے کا ذکر کرے گا تو وہ غیبت کا مُرتکِب اور گناہ گار ہو گا۔رہا وہ شخص جس پر قاضی کی طرف سے ظلم ہوا تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ بادشاہ کے پاس ظلم کی شکایت کرے اور قاضی کو ظلم کی طرف منسوب کرے کیو نکہ شکایت کئے بغیر اپنا حق حاصل کرنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے ۔
﴿ صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾
﴿ تُوْبُوْااِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ ﴾