شخص کا حال ذکر کیا گیا ہے وہ میرے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پردے میں ہے، اس کا معاملہ مجھ سے حجاب میں ہے، میرے نزدیک وہ ایسا ہی ہے جیسا پہلے تھا ،اس کا کچھ بھی معا ملہ میرے سامنے ظاہر نہیں ہوا۔
غیبت کے عادی کی گواہی مردود ہے:
بعض اوقات آدمی ظاہری طور پر عادل ہوتا ہے،کسی سے اسے حسد بھی نہیں ہوتا لیکن اس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور ان کی برائیاں کر تا رہتاہے تو ایسے شخص کو بعض اوقات عادل گمان کیا جا تا ہے حالانکہ وہ عادل نہیں ہوتا کیو نکہ غیبت کر نے والا فاسق ہو تا ہے۔اگر غیبت اس کی عادت میں شامل ہے تو اس کی گواہی مردود ہےمگر عادت کی کثرت کے سبب لوگ غیبت کے معاملے میں سستی برتتے ہیں اور لوگوں کی آبروریزی کرنے کی پروا نہیں کرتے۔
جب تمہارے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں بُرا خیا ل پیدا ہو تو تمہیں اس کے حال کی رعایت میں مزید اضافہ کر دینا چاہئے اور اس کے لئے دعائے خیر کر نی چا ہئے کیو نکہ یہ چیز شیطان کو غصہ دلا ئے گی اور اسے تم سے دور کر دے گی، لہٰذاوہ اس ڈر سے کہ کہیں تم دعا اور اس کے احوال کی رعایت میں مشغول نہ ہوجاؤ تمہارے دل میں برا خیال نہیں ڈالے گا۔
غَلطی کرنے پر اصلاح کاطریقہ:
جب تم کسی مسلمان کی لغزش دلیل کے ساتھ جان لوتو پوشیدگی میں اسے نصیحت کرواور شیطان تمہیں فریب دے کر اس کی غیبت کرنےپر ہرگزنہ ابھارے،جب تم اسے نصیحت کرو تو اس طرح نہ کرو کہ اس کی خامی پر مطلع ہو نے پر خوش رہو تاکہ وہ تمہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے اور نہ تم اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھو اور نہ نصیحت کرنے کے سبب خود کواس سے بلند سمجھوبلکہ تمہارا اراد ہ اس کو گناہ سے نجات دلانے کا ہونا چاہئے اور تم اس طرح غمگین ہو جس طرح اپنے دینی نقصان پر اَفْسُردہ ہو تے ہو اور تمہیں اس کا نصیحت کے بغیر گناہ چھوڑنا نصیحت کے ساتھ چھوڑ نے سے زیادہ پسند ہو۔جب تم ایسا کرو گے تو نصیحت کے اجر، اس کی مصیبت پر غمگین ہونے کے اجر اور دین پر اس کی مدد کرنے کے اجرکو جمع کر لو گے۔