جواب:بد گمانی کے پختہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ جس کے بارے میں اسے بدگمانی ہے اس کے متعلق قلبی کیفیت تبدیل ہو جا ئے، اس سے بہت نفرت کرنے لگے،اسے بوجھ تصور کرے ،اس کے احوال کی رعایت، اس کے بارے میں پوچھ گچھ،اس کے عزت واکرام،اس کے مصیبت میں مبتلا ہونے کے سبب غمگین ہونےکے معاملے میں کو تاہی کرے۔ یہ گمان کےجمنےاوراس پر یقین کرنے کی علامت ہے۔ سرکارِ مدینہ،قرارِقَلْب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تین باتیں مومن میں ہوتی ہیں اور اس کے لئے ان سے نکلنے کی راہ بھی ہے اور بد گمانی سے نکلنے کی راہ یہ ہے کہ اس پریقین نہ کرے۔“(1)
یعنی بدگمانی کودل میں جگہ دے نہ جمائے اورنہ فعل اور اعضاء کے ذریعے اس کی تصدیق کرے۔ دل میں تو اس طرح کہ اس کی قلبی کیفیت تبدیل ہو جائے اور اس سے نفرت کرتے ہوئے اسے ناپسند کرےاور اعضاء میں اس طرح کہ بد گمانی کےمطابق عمل کرے۔
کبھی شیطان ادنیٰ خیال کے ذریعے دل میں لوگوں کی برائیاں پکی کر دیتاہے اور اس کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ یہ تیری ہو شیاری،سمجھ کی تیزی اور ذہانت ہے اور چونکہ تو مومن ہے لہٰذا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور سے دیکھتا ہے حالانکہ درحقیقت وہ شیطان کے دھوکے اور اس کی تاریکی کے سا تھ دیکھتا ہے۔
خبر دینے والے کی تحقیق کرو:
بہرحال جب کو ئی عادل شخص تمہیں کسی بات کی خبر دے اور تمہارا گمان اس کی تصدیق کی طرف ما ئل ہو تو تم معذور ہو کیو نکہ اگر تم اسے جھٹلاتے ہو تو اس پر ظلم کرنے والے قرار پاؤ گے اس لئے کہ تم نے اسے جھوٹا گمان کیا اور یہ بھی بدگمانی ہے،لہٰذایوں نہیں ہونا چاہئے کہ ایک کے بارے میں حُسْنِ ظَن رکھو اور دوسرے کے ساتھ بد گمانی۔البتہ تمہیں چاہئے کہ اس بات کی تحقیق کرو کہ کیا ان دونوں کے مابین دشمنی، حَسَد اور عِناد تو نہیں اگر ہے تو تہمت کا شبہ ہو سکتا ہےاور بے شک تہمت کی وجہ سے شریعت نے عادل باپ کی بیٹے کے حق میں گواہی اوردشمن کی گواہی کو رد کیا ہے تو ایسی صورت میں تمہارے لئے توقف کرنا جائزہے اگرچہ خبر دینےوالا عادل ہو، تم نہ تو اس کی تصدیق کرو نہ اس کو جھٹلاؤلیکن اپنے آپ سے یوں کہوکہ جس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبير،۳/ ۲۲۸،حديث:۳۲۲۷