منہ کی بدبو کے باوجود شرابی گمان نہ کیا جائے:
کوئی شخص کسی کامنہ سو نگھے اور اس سے شراب کی بو پائے تو اس کو حد لگا نا جائز نہیں کیو نکہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے اس نے شراب کا گھونٹ بھرا ہو پھر اسے پھینک دیا ہو اور اسے پیا نہ ہو یا اسے زبردستی پینے پر مجبور کیا گیا ہو۔(1) چونکہ یہاں یقینی طوراحتمال پایا جارہا ہے لہٰذا دل کے ساتھ تصدیق کرنا اور اس کے سبب مسلمان کے ساتھ برا گمان رکھناجائز نہیں۔چنانچہ سرکارِ والا تَبارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمان کے خون ، مال اور اس کے بارے میں بد گمانی کو حرام قرار دیا ہے۔(2)
بدگمانی اسی صورت میں جائز ہے جس صورت میں مال لینا جائز ہوتا ہے یعنی وہ خود مشاہدہ کرے یا عادل شخص گواہی دے،اگر یہ بات نہ ہو بلکہ محض بد گمانی کے وسوسے پیدا ہوں تو تمہیں ان کو اپنے سے دور کرنا چاہئےاوردل میں یہ بات بٹھانی چاہئےکہ اس کا حال تم سے چھپا ہوا ہے جیسے پہلے تھااور تم نے اس سے جو کچھ دیکھا ہے وہ خیر اور شر دونوں کا احتمال رکھتا ہے۔
بدگمانی کی پہچان:
سوال:اگر تم کہو کہ شکوک بھی پیدا ہوتے ہیں اوروسوسے بھی آتے ہیں تو(ان کے ہُجوم میں)بدگمانی کی پہچان کیسے ہو؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت، جلد دوم، حصہ9، صفحہ391 پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: شراب پینے کا ثبوت فقط مونھ میں شراب کی سی بدبُو آنے بلکہ قے میں شراب نکلنے سے بھی نہ ہوگا یعنی فقط اتنی بات سے کہ بُو پائی گئی یا شراب کی قے کی حد قائم نہ کرینگے کہ ہوسکتا ہے حالت اِضطراریا اکراہ میں پی ہو مگر بو یا نشہ کی صورت میں تعزیر کرینگے جبکہ ثبوت نہ ہو اور اس کا ثبوت دومردوں کی گواہی سے ہوگا۔ اور ایک مرد اور دو عورتوں نے شہادت دی تو حد قائم کرنے کے لیے یہ ثبوت نہ ہوا۔
2…شعب الايمان،باب فی تحريم اعراض الناس...الخ،۵/ ۲۹۶،حديث:۶۷۰۶