چھٹی فصل: بدگمانی کی حرمت کا بیان
جان لیجئے! بد گمانی اسی طرح حرام ہے جس طرح زبان سے برائی کر نا حرام ہے تو جس طرح تم پر یہ حرام ہے کہ اپنی زبان سے دوسرے کی برائی کرو اسی طرح یہ بھی تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ دل میں اپنے بھائی کے بارے میں کوئی بات کہو اور اس کے ساتھ برا گمان رکھو۔بد گمانی سے میری مراد وہ گمان ہے جو دل میں جم جائے اور کسی دوسرے پربرائی کاحکم لگائے،رہے خیالات اوروسوسےتو وہ معاف ہیں بلکہ شک بھی معاف ہے البتہ ممنوع برا گمان ہے۔
گمان کسے کہتے ہیں؟
جس بات کی طرف نفس جھک جائے اور دل اس کی طرف مائل ہو جائے اسے گمان کہتے ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶،الحجرات:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والوبہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔
بد گمانی کی حرمت کا سبب:
بدگمانی حرام ہو نے کا سبب یہ ہے کہ دل کے بھیدوں کو سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کوئی نہیں جانتا اور جب تک کسی شخص کی برائی اس طرح ظاہر نہ دیکھو کہ اس میں تاویل کی گنجائش باقی نہ رہے اس وقت تک تمہارے لئے اس کے بارے میں برائی کا عقیدہ رکھنا جائز نہیں اورجب اس طرح دیکھو کہ اس میں کوئی تاویل کی گنجائش باقی نہ رہے تو اس وقت جو بات تمہیں معلوم ہوئی یا جس کا تم نے آنکھوں سے مُشاہَدہ کیا ہے اس کا اعتقاد رکھے بغیر تو کوئی چارہ نہیں لیکن جس بات کو تم نے آنکھوں سے نہیں دیکھا اورنہ ہی کانوں سے سنا پھر بھی وہ تمہارے دل میں آ گئی تو یہ شیطان نے ڈالی ہے، لہٰذا اسے جھٹلانا چاہئے کہ شیطان سب سے بڑا فاسق ہے۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا بِجَہَالَۃٍ (پ۲۶،الحجرات:۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جا نےایذا نہ دے بیٹھو۔
لہٰذا ابلیس کی تصدیق کرنا جائز نہیں اوراگر وہاں کوئی ایسی علامت ہو جو فساد پر دلالت کرتی ہومگر اس کے خلاف کا بھی احتمال ہو تو تمہارا اس کی بھی تصدیق کرنا جائز نہیں اگرچہ فاسق کے متعلق یہ مُتَصَوَّر ہے کہ وہ اپنی خبر میں سچا ہو لیکن تمہارے لئے اس کی تصدیق کرنا جا ئز نہیں۔ حتّٰی کہ