Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
454 - 1245
لے جایا جارہا ہو گا تو یہ غور وفکرضرورتمہیں دوسرے کو رسوا کرنے سے خوف میں ڈال دیتا،اگر تم اپنے حال کو پہچان لیتے تو تم اپنے آپ پر ہنسنے کے زیادہ حق دار تھے ۔تم تو کچھ لوگوں کے سامنے اس کے ساتھ مذاق کرکے خود کو رسوائی کی زد میں لے آئے کیو نکہ بروز قیامت تمہارا ہاتھ پکڑ کر لوگوں کے سامنےلایاجائے گا اور جس شخص کے ساتھ تم نے مذاق کیا تھا وہ گدھے کو لے جائےجانے کی طرح اپنے گناہوں کا بوجھ تم پرلاد کرتمہارے ساتھ مذاق کرتا،تمہاری رسوائی پر خوش ہوتا اورتمہارے خلاف اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کا اس کی مدد کرنے اور تم سےانتقام کا موقع ملنے پر مسرور ہوتا ہواتمہیں جہنم کی طرف لے جائے گا۔
قابِل رَحْم:
	جہاں تک دوسرے کے گناہ میں مبتلا ہونے  کے سبب رحم کھانے کا تعلق ہے، یہ فی نفسہٖ تو اچھا ہےلیکن ابلیس نے تم سے حسد کرتے ہوئے راہ حق سے تمہیں بہکا دیا اور تم سےوہ بات کہلوادی جس کے سبب تمہاری نیکیاں دوسرے کی طرف منتقل ہو گئیں جو کہ تمہارے رحم کھانے کی نیکیوں سے زیادہ ہیں تو یوں جس پر تم نے رحم کھایا اسکے گناہ کی تلافی ہو گئی اور وہ قابل رحم نہیں رہا بلکہ الٹے تم مستحق ہو گئے اس لئے کہ اب تم قابل رحم ہو کیو نکہ تمہارااجر ضائع ہوگیااور تمہاری نیکیاں کم ہوگئیں۔اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی خاطر غصہ کرنا بھی غیبت کا سبب نہیں بنتالیکن شیطان نےتمہارے سامنے غیبت کواس لئے پسندیدہ بنادیا ہے تاکہ تمہارے غصہ کرنے کا ثواب ضائع ہو جا ئے اور غیبت کرنے کے سبب تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی ناراضی کا شکار ہوجاؤ۔
دنیاوی  سزا:
	جہاں تک تعجب کے سبب تمہارا غیبت کرنا ہے تو اپنے آپ پر تعجب کرو کہ کیسے تم نے اپنےآپ کو اور اپنے دین کو دوسرے کے دین یا دنیا کے بدلے میں ہلاک کر دیا نیز  یہ کہ تم دنیا کی سزاسے بھی محفوظ نہیں ہو کیونکہ ہو سکتا ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  تمہارا پردہ چاک کردے جیسا کہ تم نے تعجب کرکےاپنے بھا ئی کی پردہ دری کی۔
	ان تمام اسباب کا علاج صرف معرفت(یعنی علم)ہےاور اُن تمام امور پر یقین رکھنا ہے جو ایمان کےابواب میں سے ہیں تو جس کا ان پرایمان مضبوط ہوگا اس کی زبان یقیناً غیبت سے رک جا ئے گی۔