دیا۔ اورجہاں تک لوگ تمہارے بارے میں علم وفضل کا اعتقا درکھتےہیں یہ معاملہ بھی خطرے سے خالی نہیں چنانچہ جب لوگوں کو یہ معلوم ہوتاہے کہ تم لوگوں کی آبروریزی کرتے ہو تو تمہارے بارے میں ان کا اعتقاد کم ہوجاتا ہے تو تم نے مخلوق کی ظنی قَدْرومَنْزِلَت کے بدلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یقینی قدرومنزلت کا سودا کردیا۔
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے:
جہاں تک حسد کی وجہ سے غیبت کرنے کا تعلق ہے تو یہ دو عذابوں کو جمع کرنا ہے کیو نکہ تم نےدنیاوی نعمت پر حسد کیاتو حسد کے سبب دنیا میں عذاب میں مبتلا ہو ئے پھر تم نےاسی پر بس نہ کیابلکہ اس میں عذابِ آخرت کا بھی اضافہ کر لیا۔دنیامیں تو نقصان اٹھایا ہی تھاآخرت کے نقصان کو بھی گلے لگالیااور دو سزاؤں کو جمع کر لیا۔تمہارا ارادہ تو محسود(یعنی حسد کیے گئے شخص)کو نقصان پہنچانے کا تھا لیکن تم نے اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچا دیا اور اپنی نیکیاں اسے ہَدِیّہ کر دیں تو اس طرح تم اس کے دوست اور اپنے دشمن ہو ئےکیو نکہ تمہارا غیبت کرنا اسے نقصان نہیں دے گا بلکہ تمہیں نقصان اور اسے فائدہ دے گا۔اس طرح کہ تمہاری نیکیاں اس کی طرف منتقل ہو جائیں گی یا اس کے گناہ تمہارے کھاتے میں آجائیں گے لہذا تمہیں کو ئی فائدہ نہیں ہو گانیز تم نے حسد کی خباثت کے ساتھ جہالت کی حماقت کو بھی جمع کر لیااور بعض اوقات تمہارا حسد کرنااور مذمت کرنا محسو د کی فضیلت کے پھیلنے کا سبب بن جاتا ہے جیسا کہ کہا گیا ہے:
وَاِذَا اَرَادَ اللّٰہُ نَشْرَ فَضِیْلَةٍ طُوِیَتْ اَتَاحَ لَھَا لِسَانَ حُسُوْدٍ
ترجمہ:جب اللہعَزَّ وَجَلَّکسی کی پوشیدہ فضیلت کوعام کرنےکاارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئےحاسدین کی زبان کو تیار کردیتاہے۔
کیا اب بھی مذاق اڑاؤ گے؟
جہاں تک مذاق اڑانے کا تعلق ہےتو تمہارا اس سے مقصود لوگوں کے سامنےدوسرےکو رسواکرنا ہے لیکن اس کے سبب تم خودکوبروز محشر اللہ عَزَّ وَجَلَّ،ملائکہ اورانبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکے سامنے رسوا کر دوگے،اگر تم اپنی حسرت، اپنے جرم اور قیامت کے دن کی شرمندگی اور رسوائی کے متعلق غور وفکر کرتے کہ جس دن تم اس شخص کے گناہ اٹھائے ہوئے ہو گے جس سے تم نے مذاق کیا تھااور تمہیں آگ کی طرف