جبکہ دوسرے کا تذکرہ کرنے کی حاجت نہ ہوتو اس کے علاج کی صورت یہ ہے کہ تم اس بات کو پہچانوکہ خالق کی ناراضی ،مخلوق کی ناراضی سے زیادہ سخت ہے ، تم غیبت کرکے یقینی طور پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی مول لے رہے ہو مگر یہ نہیں جانتے کہ مخلوق کی ناراضی سےبچ پاؤ گے یا نہیں۔تو ایک وہمی بات سے تم اپنے آپ کو بچارہے ہولیکن یقینی بات سےخود کو نہ بچا کرآخرت کی ہلاکت اور اپنی نیکیوں کا خسارہ قبول کر رہے ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مذمت تمہیں نقد حاصل ہورہی ہے اور مخلوق کی مذمت دورکرنے کاا نتظارادھار پر اٹھا رکھتے ہو،یہ انتہادرجہ کی جہالت اوررسوائی ہے۔
شریعت کی خلاف ورزی میں کسی کی پیروی جائزنہیں:
رہا تمہارا اس طرح اظہار براء ت کرنا کہ اگر میں نے حرام کھالیا تو کیا ہوا ،فلاں (عالم)بھی تو کھاتا ہے، اگر میں نے بادشاہ کا مال قبول کیا ہے تو فلاں بھی تو قبول کرتا ہے ۔تو یہ جہالت ہے کیو نکہ تم ایسے شخص کی پیروی کرنے کا عذر بیان کررہے ہو کہ جس کی پیروی کرنا ہی جائز نہیں ہے کیو نکہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کی پیروی نہیں کی جا ئے گی خواہ وہ کوئی بھی ہو،اگرکوئی شخص آگ میں داخل ہوجائےاور تم آگ میں داخل نہ ہونے کی قدرت رکھتے ہو تو تم ضروراس کی مُوافَقَت نہیں کرو گے، اگر کرو گےتو کم عقل کہلاؤگےنیز تم نے اس کا نام ذکر کرکے غیبت کردی اور اپنے فعل سے اِظہارِبَراءَ ت کرنےکی خاطر ایک اور گناہ کا اضافہ کر لیا اور دو گناہوں کو جمع کرکے اپنی جہالت اور کم عقلی پر مہر لگادی اور تمہاری مثال اس بکری کی طرح ہے جو پہاڑی بکری کو پہاڑ کی بلندی سےخودکو گراتا دیکھ کراپنے آپ کو بھی گرا دیتی ہے۔ اگر بکری کی عُذر بیان کرنے والی زبان ہوتی اور وہ یوں عذر بیان کرتی کہ پہاڑی بکری چونکہ مجھ سے زیادہ سمجھ دار تھی جب اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا تو میں نے بھی ایسے ہی کیا تو ضرور تم یہ دیکھ کر اس کی جہالت پر ہنستے ۔تمہارا حال بھی اس کے حال کی طرح ہے لیکن اس کے باوجود تم اپنے آپ پر نہ تعجب کرتے ہو نہ ہنستے ہو۔
مخلوق تمہیں ر بّ تعالی ٰسے بچا نہ سکے گی:
رہاتمہارا فخر کا ارادہ کرنا اورعلم وفضل کی زیادتی کی وجہ سےدوسرے کے عیب نکالنے کے ذریعےاپنی تعریف کرناتو تمہیں یہ جاننا چاہئے کہ تم نے اس کا برا تذکرہ کرکے اپنی فضیلت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ختم کر