Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
451 - 1245
داخل ہوں گے جن کا غصہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ    کی نا فرمانی کے بعدہی  ٹھنڈا ہو تا ہے۔(1)اورسرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:مَنِ اتَّقٰی رَبَّہٗ اَمْسَکَ لِسَانَہٗ وَلَمْ یَشْفِ غَیْظَہٗ یعنی جواپنے ربّ سے ڈرتا ہے وہ اپنی زبان روکےرکھتا ہے اور اپنا غصہ نہیں نکالتا۔(2)
غصہ پینے کی فضیلت:
	دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جس نے غصہ نکالنے پر قدرت کے باوجود غصہ پی لیابروز قیامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اسے مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ وہ حور عین میں سے جسے چاہے اختیار کرے۔ (3)
	کسی نبیعَلَیْہِ السَّلَام پر نازل کردہ کتاب میں ہے کہ اے ابن آدم!تومجھے اپنے غصے کے وقت یاد رکھ ، میں تجھے اپنے غضب کے وقت یاد رکھوں گا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ تجھے ہلاک نہیں کروں گا۔	
مخلوق کی رضا کے لئے رضائے الٰہی کو نہ چھوڑو:
	جہاں تک دوستوں کے ساتھ موافقت کا تعلق ہے تو تم یہ بات سوچوکہ جب تم مخلوق کی رضا مندی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی ناراضی کو پانے کی کو شش کرو گے تو اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ تم پر غضب فرمائے گا۔اورتم اپنے لئے کیسے اس بات پر راضی ہو کہ دوسرے کی تعظیم و تکریم تو کرو مگر اپنے مولیٰعَزَّ  وَجَلَّ کوحقیر جانو اور مخلوق کی رضا کے لئے اس کی رضا کو چھوڑ دو البتہ تمہارا غضب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ    کے لئے ہو تو حرج نہیں لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ جس پر غصہ ہے اس کا ذکر تم برائی کے ساتھ کروبلکہ جب تمہارے دوست اس کا برا تذکرہ کریں تو تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر ان پر غصہ کرنا چاہئے کیو نکہ انہوں نے بہت بُرے گناہ یعنی غیبت کے ساتھ تمہارے ربّعَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کی ہے۔  
	جہاں تک دوسرے کی طرف خیانت کی نسبت کرکے خودکو عیب و نقص سے پاک سمجھنے کا تعلق ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی حسن الخلق،۶/ ۳۲۰،حديث:۸۳۳۱
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الورع،۱/ ۲۱۱،حديث:۱۰۴
3…سنن  ابی داود،کتاب الادب،باب من کظم غيطاً،۴/ ۳۲۵،حديث:۴۷۷۷