Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
450 - 1245
	کسی نے ایک دانا شخص سے کہا:اے بری صورت والے! دانا نے کہا: چہرے کابنانا میرے اختیار میں تو  نہیں تھا کہ میں اسے اچھا بناتا۔
خود کو عیبوں سے پاک سمجھناایک بڑا عیب ہے:
	جب وہ اپنے اندر کوئی عیب نہ پائےتواللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرےاورہر گزاپنے آپ کو سب سے بڑے عیب کے ساتھ آلودہ نہ کرے کیو نکہ لوگوں کےعیب بیان  کرنااور مردار کا گوشت کھانا بڑے عیوب میں سے ہے بلکہ اگر وہ اِنصاف سے کام لیتا تو ضَرور یہ بات جا ن لیتا کہ اس کا اپنے بارے میں یہ گُمان کرنا کہ وہ ہر عیب سے پاک ہے، اپنے آپ سے جَہالَت ہے اوریہ  بھی بڑے عیوب میں سے ہے ۔
	اس بات کا جاننا بھی اس کے لئے  مُفید ہوگا کہ اس کے غیبت کرنے سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے جیسے دوسرا شخص اس کی غیبت کرے تو اسےاذیت ہوتی ہے تو جب وہ اپنے لئے  اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ اس کی غیبت کی جائے تو دوسرے کے لئے بھی اس بات پر راضی نہیں ہونا چاہئے جسےوہ  اپنے لئے  پسند نہیں کرتا،تو یہ غیبت کا اِجمالی علاج تھا۔ 
غیبت کاتفصیلی عِلاج:
	اس کی  تفصیل یہ ہے کہ وہ اس سبب پر غور کرے جو اس کو غیبت پر ابھاررہاہےکیو نکہ بیماری کاعلاج اس کے سبب کو ختم کرنے سے ہوتا ہے اور اسبا ب کا ذکر ہم پہلےکر چکے ہیں ۔
	رہا غصہ تواس کا علاج ان باتوں کے ذریعے کرے جو عنقریب غضب کی آفات کے بیان میں آئیں گی، اوراسے علاج کے طور پر اس طرح سوچنا چاہئے کہ اگر میں غیبت کرکے اس کے مُتَعَلِّق غُصّہ نکالوں گاتو غیبت کے سبباللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھ پر بھی غضبناک ہو گا کیو نکہ ربّ تعالیٰ نے مجھے اس سے منع فرمایا ہے،لہٰذا اس کے منع کرنےکے باوجودمیں نے بے باکی کی اور اس کے ڈرانے کو ہلکا سمجھاتونورکے پیکرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاارشادہے:اِنَّ لِجَـھَنَّمَ بَابًا لَّا یَدْخُلُہٗ اِلَّا مَنْ شَفٰی غَیْظُہٗ بِمَعْصِيَةِاللّٰہِیعنی جہنم کا ایک دروازہ ہے جس سے وہی لوگ