Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
45 - 1245
 ادراک نگاہِ بصیرت سے ہی ممکن ہے، اس عالَم کی کوئی حد و انتہا نہیں،البتہ انسان کا دل ایک حد تک روشن ہوتا ہے جو اس کے لئے باطنی عالَم کی انتہا ہوتی ہے جبکہ درحقیقت باطنی عالَم کی کوئی حد نہیں۔
	معرفت کے اعلیٰ مرتبوں پر فائزعارفین فرماتے ہیں ظاہرو باطنی میں جس طرف بھی نظر کی جائے اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی ذات ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ تمام موجودات کو محیط ہے کیونکہ درحقیقت وُجود صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات اور اس کے افعال کا ہے، سلطنت و مملکت اور بندے سب اس کے افعال کی تخلیق ہیں۔ اس گروہ کے نزدیک باطنی امور میں سے جو کچھ دل پر روشن ہوتا ہے وہی جنت ہے۔جبکہ اَہْلِ حق(علما) کے نزدیک یہ تمام امور جنت کا حق دار ہونے کے اسباب ہیں۔انسان کا دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات و صفات اور افعال سے جس قدر روشن ہوگا، جس قدر اسے معرفت حاصل ہوگی جنت میں اتنی ہی مقدارکے برابر اس کا حصہ ہوگا۔ فرمانبرداری اور نیک اعمال کا مقصد دل کو ستھرا، پاکیزہ اور پرنور کرنا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ﴿۹﴾۪ۙ (پ۳۰،الشمس:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا۔
	نفس کے پاکیزہ اور ستھرا ہونے سے مراد اس کا نورِایمان اور مَعرِفتِ الٰہی سے روشن ہونا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات مبارکہ سے یہی نورانیت اور روشنی مراد ہے:
﴿1﴾…
فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ ۚ (پ۸،الانعام:۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔
﴿2﴾…
اَفَمَنۡ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ  (پ۲۳،الزمر:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔
یہی روشنی اور تجلی ایمان ہے۔
ایمان کے مراتب اور ان کی مثالیں:
	ایمان کے تین مرتبے ودرجے ہیں:پہلا درجہ: عوام کا ایمان ہے۔ یہ خالص تقلیدی ایمان ہے۔