Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
449 - 1245
بعض اوقات جس شخص کی غیبت کی ہے، اس کا ایک گناہ اس کے کھاتے میں ڈالنے کے سبب سے ہی گنا ہوں کا پلڑا بھا ری ہو جا ئے گا اور یہ نار ِجَہَنَّم میں داخلے کا حق دار ہو جائے گا۔کم سے کم غیبت کا نقصان  یہ ہوگا کہ اس کے اعمال کا ثواب کم ہوجائے گا اور یہ مُخاصَمَت، مُطالَبے،سُوال وجواب اور حِساب کے بعد ہو گا۔
غیبت نیکیوں کو کھا جاتی ہے:
	محبوبِ ربِّ داوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: مَاالنَّارُ فِیْ الْیَبَسِ بِاَسْرَعَ مِنَ الْغِیْبَةِ فِیْ حَسَنَاتِ الْعَبْدِیعنی آگ خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں کھاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔(1)
اپنی نیکیاں تمہیں کیوں دوں؟
	مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے کہا:مجھے خبر ملی ہے کہ آپ میری غیبت کرتے ہیں۔فرمایا:میرے نزدیک تمہاری اَہَمِّیَّت اتنی زیادہ بھی نہیں کہ میں اپنی نیکیاں تمہارے حوالے کردوں۔
اپنے بھائی کے عیب پر نظر نہ رکھے:
	جب بندہ غیبت کی مَذمَّت میں موجود اَحادیث پر یقین رکھے گا تو ان وَعِیدوں سے خوف کے سبَب اپنی زبان کو آزاد نہیں چھوڑے گااوراپنے بارے میں غَوروفِکر کرنا اس کے لئے مفید رہے گا۔ لہذا اگر اپنے اندر کوئی عیب پا ئے تو اس کو دور کرنے میں مشغول ہو جا ئے اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان کو یاد کرے کہ طُوْبیٰ  لِمَنْ شَغَلَہٗ عَیْبُہٗ عَنْ عُیُوْبِ النَّاسِ یعنی اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جسے اس کے عیب نے دوسروں کی عیب جوئی سے پھیر دیا ۔تو جب وہ کوئی عیب پائے تو اسے اس بات سے شرم آنی چاہئے کہ اپنی مذمت کو چھوڑ کر دوسرے کی مذمت کر رہا ہے بلکہ اسے یہ یقین رکھنا چاہئےکہ دوسرا شخص اس عیب کو اپنے سے دور کرنے سے عاجز ہو گیا ہوگا  جیسا کہ وہ خود عاجزہو گیا تھااور یہ بھی اس وقت ہے جبکہ اس کے عیب کا تعلُّق اس کے فعل اور اختیار سے ہو اور اگر اس عیب کا تعلق خِلْقَت سے ہو تو اس کی برائی کرنا خالق کی برائی کرنا ہے کیونکہ جو کسی صَنْعَت میں عیب نکالتا ہے یقیناًوہ صانِع کی برائی بیان کرتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرة الموضوعات،باب آفة الذنب والرضابه...الخ،ص۱۶۹