Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
448 - 1245
 یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سے پو چھئے:کیا اس نے مجھے کبھی رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھتے ہوئے یا اس کے حق میں کچھ کمی کرتے ہوئے دیکھا ہے؟آپ نے اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا:نہیں۔پھر اس نے کہا:میں نےاسے  سائل یا مِسکین کو کچھ دیتے ہوئے کبھی نہیں دیکھااور نہ ہی راہِ خدا میں زکوٰۃ کے علاوہ اپنے مال سے کچھ خرچ کرتے ہو ئے دیکھاہے،زکوٰۃ تو نیک وبد سبھی دیتے ہیں ۔فریادی نے عرض کی :آپ اس سے پو چھئے کہ کیا میں نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں کچھ کوتاہی کی یامیں نے اس میں ٹال مٹول سے کام لیا ہے؟آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے پو چھا تو اس نے کہا:نہیں۔توآپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس نفرت کرنے والے سے ارشا دفرمایا:اٹھ جاؤ،شاید یہ تم سے بہتر ہو۔ (1)
پانچویں فصل: 		زبان کو غیبت سے بچانے کا علاج
	جان لیجئے!  تمام بری عادات کا علاج علم وعمل کے مرکب سے ہوتا ہے اور ہر بیماری کا علاج اس کے سبب کی ضد سے ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں اس کا سبب تلاش کرنا چاہئے۔
	زبان کو غیبت سے روکنے کا علاج دو طریقے سے ہوتا ہے ،ایک اِجمالی اور دوسراتفصیلی ۔
غیبت کا اجمالی علاج:
	غیبت کا اجمالی علاج یہ ہے کہ وہ اس بات کو جانے کہ ہماری روایت کردہ احادیث کے مطابق وہ غیبت کرکے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی ناراضی کی زدمیں آجائے گااور اس بات کو جانے کہ غیبت بروز قیامت اس کی نیکیوں کو برباد کردے گی کیو نکہ دوسرے کی آبروریزی کرنے کے عوض قیامت میں اس کی نیکیاں اس شخص کی طرف منتقل ہو جائیں گی جس کی اس نے غیبت کی،تو اگر اِس کی نیکیاں نہیں ہو ں گی تواُس کے گناہ اِس کے کھاتے میں ڈال دیے جا ئیں گے ،اس کے باوجود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی ناراضی برقرار رہے گی اور وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے نزدیک مردار کا گوشت کھانےوالے کی طرح ہو گابلکہ وہ نار ِجَہَنَّم میں داخل ہونے کا مستحق ہو جا ئے گا اس طرح کہ اس کے گناہوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہو جائے گا اور 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،حديث ابی الطفيل عامر بن واثلة،۹/ ۲۱۰،حديث:۲۳۸۶۴