اور کبھی عدم موجودگی میں ہو تاہے اور اس کا سبب تکبر اورجس سےمذاق کیا جا رہا ہے اسے کمتر سمجھناہے۔
خواص میں موجود تین اَسباب:
جہاں تک اُن تین اَسباب کا تعلق ہے جو خواص میں پائے جاتے ہیں تو وہ بہت زیادہ باریک اور پو شیدہ ہیں کیونکہ یہ وہ خرابیاں ہیں جنہیں شیطان نیکیوں کے راستوں میں لے آتا ہے حالانکہ ان میں خیر ہوتی ہے لیکن شیطان ان میں شر کو ملا دیتا ہے۔
٭…پہلاسبب :دین داری کے باعث، بُرائی اوردینی خَطاکو عجیب سمجھتے ہوئےحیرانی کے سبب کا پیدا ہوناجس کے باعث وہ کہتا ہے:کتنی عجیب بات ہے جو میں نے فلاں سے صادِر ہوتے دیکھی،کبھی وہ اس میں سچا ہوتا ہے اور اس کا تعجب برائی پر ہو تا ہے لیکن دُرُست یہ تھا کہ وہ تعجب کرتے ہوئے اس کا نام نہ لیتا تو شیطان اظہارِتعجب میں دوسرے کا نام ذکر کرنا اس کے لئے آسان کر دیتا ہے اوریوں وہ غیبت کرنے والا اور گنا ہ گار ہو جا تا ہے اور اسے اس کا شُعُور تک نہیں ہوتا ۔
اسی طرح کسی شخص کا یہ کہنا بھی غیبت ہے کہ مجھے فلاں آدمی پر حیرت ہو تی ہے کہ کیسے وہ اپنی کنیز کو پسند کر تا ہے حالانکہ وہ تو بد صورت ہے اور کیسے وہ فلاں سے پڑھتا ہے حالانکہ وہ تو جا ہل ہے۔
٭…دوسرا سبب: رَحْم کھاناہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ کسی شخص کے گناہ میں مبتلا ہونے کے سبب غمگین ہو جائے اور کہے :بے چارے فلاں کے معاملے اور اس کے گناہ میں مبتلا ہونےنے مجھے غمگین کر دیا ہے، وہ اپنے غم کے دعوے میں تو سچا ہو تا ہے لیکن وہ غم کے سبب اس کانام لینے سے پرہیز کرنے سے غافل ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اس کا ذکر کر دیتا ہے اور یوں غیبت کا مُرتکِب ہو جا تا ہے۔اس کا غمگین ہونا ،رحم کھانا اور اسی طرح اس کا تعجب کرنا اچھا ہے لیکن شیطان اس کو شَر کی طرف اس طرح سے لے جا تا ہے کہ اسے معلوم تک نہیں ہوتا۔ رحم کھانا اور غمگین ہونا اس کا نام لئے بغیر بھی تو ممکن ہے مگر شیطان اسے نام لینے پر ابھارتا ہے تاکہ اس کے سبب اس کےغمگین ہونے اور رحم کھانے کا ثواب باطل ہوجائے۔
٭…تیسرا سبب: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے غصہ کرناہے کیو نکہ بعض اوقات جب وہ کسی کو برائی کرتے ہو ئے دیکھتا یا سنتا ہے تو غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نام ذکر کر دیتا ہے حالانکہ واجب تو یہ تھا کہ وہ نیکی کی دعوت