کہتا ہے: جھوٹ بولنا میری عادت نہیں ہے کیو نکہ میں نے آپ کواس کے احوال سے ان ان باتوں کی خبر دی ہےلہذا وہ ایسا ہی ہے جیسا میں نے کہا۔
٭…چوتھا سبب: کسی کی طرف کوئی کام منسوب ہو تووہ اپنی بَراءَ ت کے اظہارکے لئے اس شخص کا ذکر کردے جس نے وہ کام کیا تھا حالانکہ درست یہ تھا کہ وہ خود کو بے قُصُور بتاتااور اس کا نام نہ لیتا جس نے وہ کام کیا تھا تا کہ وہ اس کام کی طرف منسوب نہ ہو تایا پھر دوسرے کایوں ذکر کرے کہ اس فعل میں فلاں بھی اس کے ساتھ شریک تھا تاکہ اس کے سبب اس کام کو کرنے میں اپنا عذر بیا ن کرے۔
٭…پانچواں سبب:تَصَنُّع اورفَخْر کا ارادہ کرنااوراس کی صورت یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص میں عیب نکال کر اپنی برتری کا اظہار کرے اور کہے: فلاں شخص جاہِل ہے، اس کی سمجھ ناقص ہے اور کلام کمزور ہے اور اِس سےاُس کی غرض یہ ہو تی ہے کہ وہ اُس کی برائی کے ضِمْن میں اپنی فضیلت ثابت کرے اور لوگوں کو یہ دکھائے کہ وہ اُس سے زیادہ علم رکھتا ہے یاپھر دوسرے شخص کے متعلق اس بات کا خوف محسوس کرے کہ کہیں میری طرح اس کی بھی تعظیم نہ کی جانےلگےلہذا اس میں کیڑے نکالنے لگ جائے۔
٭…چھٹا سبب: حسدہے بعض اوقات کسی کو اس شخص سے بھی حسد ہوتا ہے جس کی لوگ تعریف کرتے ہیں، جس سے محبت کرتے ہیں اورجس کی تعظیم کرتے ہیں تو وہ اس سے نعمت کا زوال چاہتا ہےاور اس میں کیڑے نکالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں پاتا اور وہ چاہتاہے کہ لوگوں کے سامنے اس کی عزت نہ رہے تاکہ لوگ اس کی تعظیم اور تعریف کرنے سے رک جائیں کیو نکہ جب وہ سنتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف میں رَطْبُ اللِّسان ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ بات اس پرگراں گزرتی ہے اور یہی چیز عین حسد ہے اور یہ غصے اور کینے کے علاوہ ہے کیو نکہ غصہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جس پر غصہ ہے ،اس سے خطا سَرزَد ہوجائےاور حَسَد کبھی محسن اور مہربان دوست سے بھی ہو تا ہے(یوں یہ ایک الگ سبب ہے)۔
٭…ساتواں سبب:کھیل کود، خُوش طَبْعِی اور ہَنْسی میں وقت گزارنا۔چنانچہ وہ نقل اتار کر دوسرےکے عیوب اس طرح ذکر کرتا ہے کہ لوگ ہنسیں اور اس کا سبب تکبر اور خود پسندی ہے۔
٭…آٹھواں سبب: دوسرے کوحقیر سمجھتے ہوئے اس کا مذاق اڑانا اور یہ کبھی اس شخص کی موجودگی میں