میں سےعوام کے حق میں عام ہیں اور تین دین دار اور خاص لوگوں کے سا تھ مخصوص ہیں۔
عوام میں موجودآٹھ اسباب:
٭…پہلا سبب:غُصَّہ نکال کر دل کو ٹھنڈا کرنا ہے اور یہ اس وقت ہو تا ہے جب کو ئی ایسا سبب واقع ہو جس کی بنا پر اسے دوسرے پر غصہ آئےکیو نکہ جب اس کے غصے کی آگ بَھڑک اُٹھتی ہے تو وہ اس کی برائیاں ذکر کرکے اپنے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہےاورغصے کےفِطْرت میں داخل ہونےکے سبب زبا ن اس کی برائیاں بیان کرنے کی طرف بڑھتی ہے جبکہ وہاں کوئی دِینی رُکاوَٹ نہ ہو اور کبھی اس کے لئے غُصَّہ نکالنا ممکن نہیں ہوتاتو غصہ دل میں جم جا تا ہےاورکینہ ہوکربرائیاں بیان کرنے کا دائمی سبَب بن جا تا ہے توکینہ اورغُصّہ غیبت پر اُبھارنے والے بڑے اسباب میں سے ہیں۔
٭…دوسرا سبب:اپنے ہم زمانہ لوگوں کی مُوافَقَت کرنااوردوستوں سے اظہارِتَعَلُّق کرتے ہوئے گفتگو میں ان کی مدد کرناکیو نکہ جب وہ لوگوں کی غیبت کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے ان کو غیبت کرنے سے روکایامجلس سے اٹھ کر چلا گیا تو وہ اسے بوجھ شُمار کریں گے اور اس سے دور بھاگیں گے،لہٰذا وہ ان کی مدد کرتا ہے اوراسےحُسْنِ اَخلاق سے خیال کرتا ہےاور یہ گمان کرتا ہے کہ اس کا یہ فعل دوستی یاری میں ان کی دلجوئی ہےاور کبھی اس کے دوستوں کو غصہ آتا ہے تو خوشی غمی میں شرکت کا اظہار کرنے کے لئے ان کے غصہ کرنے کےسبب اسے بھی غصہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے،لہٰذا وہ ان کے ساتھ عیوب اور برائیاں ذکر کرنے میں مبتلا ہوجا تا ہے۔
٭…تیسرا سبب: کسی شخص سے اس بات کا خوف محسوس کرنا کہ وہ اسے نشانہ بنا کر اپنی زبان سے اسے اذیت پہنچائے گا یاسردار و ذِی وقار شخص کے سامنے اس کی حالت کی بُرائی بیان کرے گا یا اس کےخِلاف کسی بات کی گواہی دے گا تو قبل اس کے کہ وہ اس کی حالت کی برائی بیان کرے اور اس پرالزام لگائے ،وہ خود ہی پہل کر دیتا ہے تاکہ اس کی گواہی (اورگفتگو)کا اثر ختم ہو جائے۔
یا جس بات میں وہ سچا ہے،ابتداءًاسے ذکر کرتا ہے تاکہ اس کے بعد اس کے خلاف جھوٹ بولے۔ چنانچہ وہ جھوٹ کو پہلے سچ کے ساتھ آراستہ کرتے ہوئے بولتا ہے اور اس (یعنی پہلے سچ)کو دلیل بناتے ہوئے