Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
443 - 1245
 سے روک دے یاضرر کا خوف ہوتو  اپنے دل سے برا جانے ،اگر وہاں سے اٹھ کر جا سکتا ہےیا گفتگو کا رخ بد ل سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ گناہ گار ہوگا۔اگر زبان سے کہہ بھی دیتا ہے کہ ”خاموش ہو جاؤ“مگر دل سے سننا چاہتا ہے تو یہ منافقت ہے اور جب تک دل سے برا نہ جا نے گناہ سے باہر نہ ہو گا ،فقط ہاتھ یا اپنی ابرو یا پیشانی کے اشارے سے چپ کرانا کا فی نہ ہو گا کیو نکہ ایسا کرنا غیبت کئے گئے شخص کو حقیر سمجھنا ہےبلکہ اس کو بڑا جانتے ہوئے غیبت کرنے والے کو واضح الفاظ میں روکنا چاہئے۔
اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی حفاظت کرے:
	سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس شخص کے پاس کسی مومن کو ذلیل کیا جا رہا ہواور وہ طاقت رکھنے کے باوجوداس کی مدد نہ کرے تواللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اسے رُسوا کرے گا۔(1)
	حضرت سیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جو شخص اپنےمسلمان بھائی  کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کا تَحَفُّظ کرے تو اللہ  عَزَّ  وَجَلَّکے ذِمَّۂ کَرَم پرہے کہ قیامت کے دن اس کی عزت کی حفاظت فرمائے۔(2)
	حُسنِ اَخلاق کے پیکرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:جو اپنےمسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کا دِفاع کرےتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذِمَّۂ کَرَم پرہے کہ اسے نارِجَہَنَّم سے آزاد کردے۔(3) 
	غیبت کے وقت مسلمان کی مدد کرنے اور اس کی فضیلت کے متعلق کثیر احادیث موجود ہیں جنہیں ہم نے آدابِ صحبت اور حُقُوقِ مسلمین میں ذکر کر دیا ہے، لہٰذا ہم انہیں دوبارہ لاکر کلام کو طویل نہیں کریں گے۔
چوتھی فصل: 				غیبت پر اُبھارنے والے اسباب
	جان لیجئے غیبت پر ابھارنے والے امور کثیر ہیں لیکن یہ سب گیارہ اسباب کے تحت  داخل ہیں ،آٹھ ان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبير،۶/ ۷۳،حديث:۵۵۵۴
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۶۶،حديث:۲۵۲
3…المعجم الکبير،۲۴/ ۱۷۶، حديث:۴۴۳