اس لئے کرتا ہے تاکہ غیبت کرنے والے کا جوش بڑھ جائےاور وہ غیبت کرتا رہےگویا یوں وہ اس سے غیبت نکلواتا ہے اوراس پر کہتا ہے:تعجب ہے میں تو اسے ایسا نہیں جانتا تھا ،میں تو اب تک اسے صرف اچھائی کے ساتھ ہی پہچانتا تھا ،میں تو اس کے بارے میں کچھ اور ہی گمان کرتا تھا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اس مصیبت سے محفوظ رکھے، یہ سب کچھ غیبت کرنے والے کی تصدیق ہےاور غیبت کی تصدیق بھی غیبت ہوتی ہےبلکہ غیبت سن کر خاموش رہنے والا بھی گناہ میں غیبت کرنے والے کاشریک ہے۔چنانچہ
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اَلْمُسْتَمِعُ اَحَدُ الْمُغْتَابِیْنَ یعنی غیبت سننے والابھی، غیبت کرنے والوں میں سے ایک ہوتاہے۔(1)
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق اورحضرت سیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:اِنَّ فُلَا نًا لَنَؤُوْمٌ یعنی فلاں شخص بہت سوتا ہے۔ پھر انہوں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سالن مانگاتا کہ اس کے ساتھ روٹی کھائیں ۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تم سالن کھا چکے ہو۔ انہوں نے عرض کی:ہمیں تو اس کا علم نہیں۔فرمایا:ہاں ۔تم دونوں نے اپنے بھائی کا گوشت کھا یا ہے ۔(2)
تو دیکھو کس طرح رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دونوں کو(غیبت میں)ملایا حالانکہ غیبت کرنے والے ان میں سے ایک تھے اور دوسرے سن رہے تھے۔
اسی طرح دوشخصوں میں سے ایک نے حضرت ماعِزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےمتعلق کہا کہ انہیں کتے کی طرح مارا گیا۔سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:دونوں اس مردار کا گوشت کھاؤ۔(3)
توسرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیبت میں دونوں کو ملایا(حالانکہ غیبت کرنے والا ایک تھا)۔
غیبت سننے سے کیسے بچے؟
غیبت سننے والا،غیبت کے گناہ سے اسی وقت نکل سکتا ہے جب وہ اپنی زبان کے ساتھ اسے غیبت کرنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزواجر عن اقتراف الکبائر،الباب الثانی فی الکبائرالظاهرة،الکبيرة الثامنةوالتاسعةوالاربعون بعدالمائتين، ۲/ ۳۵
2…التوبيخ والتنبية لابی الشيخ اصبهانی،۳/ ۱۰۷،حديث:۲۴۸
3…سنن ابی داود،کتاب الحدود،باب رجم ماغربن مالک،۴/ ۱۹۸،حديث:۴۴۲۸