Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
441 - 1245
 تعریف کرتاہے۔اس کا مقصود تعریف کے ضِمْن میں اُس کی مذمت کرنا اورخود کو نیک لوگوں کے ساتھ تشبیہ دے کراپنی تعریف کرنا ہو تا ہے کہ وہ بھی نیک لوگوں کی طرح اپنے نفس  کی مذمت کرتا ہےتو ایسا شخص غیبت کرنے والا،ریا کار اور اپنی پاکی بیان کرنے والا ہے اوریوں وہ تین گنا ہوں کو جمع کرتا ہے اور اپنی جہالت کے سبب خود کو نیک لوگوں میں سمجھتا ہے اوراپنے آپ کو غیبت سے پاک صاف گمان کرتا ہےاور یہی وجہ ہے کہ شیطان جاہلوں کے سا تھ کھیلتا ہے جب وہ بغیر علم کے عبا دت میں مشغول ہوتے ہیں، اس طرح کہ انہیں مَشَقَّت میں ڈال کر اپنے مکر وفریب کے ذریعے ان کے اَعمال برباد کردیتا ہے، ان پر ہنستا ہے اور ان کا مذاق اڑاتا ہے ۔
	اسی سے(یعنی بد ترین غیبت میں سے) یہ بھی ہے کہ وہ کسی انسان کا عیب ذکر کرےاور جب بعض حاضرین اس پر آگاہ نہ ہوں تووہ کہے: سبحٰن اللہ!کیا ہی عجیب بات ہے،تاکہ وہ اس غیبت  کرنے والے کی طرف متوجہ ہوں اور جو وہ کہتا ہے اسے جان لیں ۔پس وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا ذکر کرتا ہےاور اپنی خباثَت کو ثابت کرنے  کے لئےاِس کے نام کو اپنے لئے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور جَہالت اور دھوکے کے سبب اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  پر اس کا ذکر کرکے احسان جتاتا ہے۔
	اسی طرح وہ کہتا ہے کہ ہمارے دوست کی جو تذلیل کی گئی ہے اس پر مجھے بہت دکھ ہوا ہے ،ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اسے راحت عطا فرمائے،تو وہ غمگین ہونے کے دعوےاور اس کے لئے دعا کے اظہار میں جھوٹا ہے، اگر دعا کا ارادہ تھا تو نماز کے بعد تنہائی میں اس کے لئے دعا کرتا،اگر اسے اس بات پر غم ہوتا ہے تو جس بات کے کہے جانے کو اس کا دوست ناپسند کرتا ہے، اس کے اظہار پربھی اسے غم ہوتا۔   
	اسی طرح وہ کہتا ہے : بے چارہ فلاں بڑی آفت میں مبتلا ہےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہماری اور اس کی تو بہ قبول فرمائے۔ تو ان تمام صورتوں میں وہ دعا کا اظہار کرتا ہے لیکن اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ اس کی باطنی خباثت اور اس کے پوشیدہ ارادے سے باخبر ہےاور اسے اپنی جہالت کے سبب اس بات کا علم ہی نہیں ہو تا کہ وہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی ایسی ناراضی کی زد میں آچکا ہے جو اُس ناراضی سے بھی بڑھ کر ہے جس کی زد میں جاہل لوگ آتے ہیں جب وہ کھلم کھلا غیبت کرتے ہیں۔ 
غیبت سننا اور اس کی تصدیق کرنابھی غیبت ہے:
	اسی سے(یعنی بد ترین غیبت میں سے) اَزْراہِ تَعَجُّب تَوَجّہ سے غیبت سننا بھی ہےکیو نکہ وہ  تعجب کا اظہار محض