وہ بات جسے سمجھایا جا رہا ہےلہذا جب معین شخص کی پہچان نہ ہوپائے تو جائز ہے۔
اصلاح کا حسین انداز:
تاجدارِ رِسالت،شَہَنْشاہِ نَبوَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی شخص سے کوئی نا پسندیدہ بات دیکھتے تو ارشاد فرماتے: مَا بَالُ اَقْوَامٍ یَفْعَلُوْنَ کَذَا وَکَذَا یعنی لوگوں کو کیا ہو گیا جو ایسا ایساکرتے ہیں۔(1)
تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کو معین نہیں کرتے تھے۔تمہارا یہ کہنا کہ”ایک شخص جو سفر سے واپس آیا یا ایک آدمی جو عالم ہونے کا دعوی کررہا ہے وہ ایسا ہے “ اگر اس کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ ہو جس سے معین شخص سمجھا جا رہا ہو تویہ غیبت ہے۔
غیبت کی بدترین قسم:
غیبت کی بد ترین قسم وہ ہے جوریا کارعُلَما کرتے ہیں کیو نکہ وہ نیک لوگوں کے طریقے پر مقصود کو سمجھاتے ہیں تا کہ اپنی طرف سے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کریں کہ وہ غیبت سے بچے ہوئے ہیں اور مقصود کوسمجھا رہے ہیں اور اپنی جہالت کے سبب یہ نہیں جا نتے کہ انہوں نے دوبرائیوں کو جمع کر لیا ہے ،ایک غیبت اور دوسری ریاکاری۔
اس کی مثال یہ ہے کہ اس طرح کے شخص کے پاس کسی کا تذکرہ ہو تو کہتا ہے:تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہمیں بادشاہ کے پاس جانے اور دنیا کی طلب میں ذلیل ہو نے کی مصیبت سے بچایایا کہتا ہے: ہم بے حیائی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے، اس کا مقصد صرف دوسرے کا عیب سمجھانا ہو تا ہے تو وہ اسے دعاکے طریقے پر ذکر کرتا ہے ۔
اسی طرح جس کی وہ غیبت کرنا چاہتاہے تو پہلے کبھی اس کی تعریف کرتا ہے اور کہتاہے:فلاں کے اَحوال کتنے اچھے تھے کہ عبادات میں بالکل کو تاہی نہیں کر تا تھا لیکن اب وہ سست پڑ گیا ہے اور ایسی چیز میں مبتلا ہو گیا ہے جس میں ہم سبھی گھرے ہوئےہیں یعنی اس کے اندر(مشقتوں پر)صبر کرنے کا جذبہ کم ہو گیا ہےاور یوں اپنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی حسن العشرة،۴/ ۳۲۸،حديث:۴۷۸۸