Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
44 - 1245
اللہ عَزَّ وَجَلَّمکان سے پاک ہے:
	امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث شریف میں بھی اسی جانب اشارہ ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ زمین میں ہے یا آسمان میں؟“ارشادفرمایا: ”(اللہ عَزَّ وَجَلَّ) اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ہے۔“(1)
	حدیث پاک میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:’’ میری رحمت کا احاطہ زمین کرسکتی ہے نہ آسمان،البتہ مومن کا نرم وپرسکون دل اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے(2)۔ ‘‘(3)
سب سے بہترکون؟
	ایک روایت میں ہے کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ ارشاد فرمایا:’’مَخْمُوْمُ الْقَلْب مومن۔‘‘عرض کی گئی:’’ مَخْمُوْمُ الْقَلْب کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا: پرہیزگار جس کا دل کھوٹ، سرکشی، دھوکا، کینہ اور حسد سے پاک و صاف ہو۔‘‘(4)
	اسی لئے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ”میرے دل نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی زیارت کی ہے۔“ کیونکہ پرہیزگاری کے سبب ان کے دل سے حجاب اٹھا دیا گیا تھا اوربندے اور  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے درمیان حائل پردہ جس کے دل سے اٹھا دیا جائے اس پر ظاہری باطنی تمام حقیقتیں روشن ہوجاتی ہیں۔ اس وقت انسان نگاہِ بصیرت سے دیکھتا ہے کہ جنت کا ادنیٰ سا ٹکڑا تمام زمین و آسمان کے برابر ہے۔
	یقیناً جنت زمین و آسمان سے بڑی ہے کیونکہ زمین و آسمان ظاہری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، وہ کتنے ہی پھیلے ہوئے ہوں لیکن ان کا کنارہ اور انتہا ضرور ہے جبکہ باطنی عالَم ظاہری آنکھوں سے پوشیدہ راز ہے جس کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب،الفصل الثلاثون،ذکرتفصيل الخواطرلاهل القلوب...الخ،۱/ ۲۰۷
2…’’وَسَعَنِیْ قَلْبُ عَبْدِی الْمُؤْمِن‘‘ کا معنیٰ یہ ہے’’وَسِعَ قَلْبُہٗ اَلْاِیْمَانَ بِیْ وَمَحَبَّتِیْ وَمَعْرِفَتِی‘‘یعنی بندۂ مومن کا دل مجھ پرپختہ  ایمان رکھتااور میری محبت و معرفت کو سمانے کی وسعت رکھتا ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۸/ ۴۳۰) 
3…البحرالمديد،پ۱۷،سورة الحج:۲۶،۴/ ۶۱۱ 
4…سنن ابن ماجه،کتاب الزهد،باب الورع والتقوی،۴/ ۴۷۶، حديث:۴۲۱۶بتغيرقليل