Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
439 - 1245
خامی سمجھانااور اس طرح اس کی پہچان کرانا ہوتا ہے جسے وہ ناپسند کرے ۔اس سلسلے میں اشارۃًگفتگوصریح گفتگو  کی طرح ہے اور فعل اس میں قول کی طرح ہے، لہٰذا ہاتھ یا آنکھ سے اشارہ کرنا،لکھنا،کسی کی نقل اتارنا اور ہر وہ چیز جس سےمقصود سمجھ آجائے وہ غیبت میں داخل ہے اور حرام ہے۔ 
	 اور اسی (زبان کے علاوہ غیبت کی)قسم سے اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدُتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا قول ہے کہ ہمارے پاس ایک عورت آئی ،جب وہ چلی گئی تومیں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ یہ پستہ قد ہے تو رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:تم نے اس کی غیبت کی۔(1)
غیبت کی سب سے سخت قسم:
	اور اسی  قسم سےنقل اتارنا بھی ہےمثلاً لنگڑا کر چلنا یا اس کے چلنے کی طرح چلنا، یہ بھی غیبت ہے بلکہ غیبت کی قسموں میں سب  سےسخت قسم ہے کیونکہ اس میں منظر کَشی اور دوسرے کو سمجھانا زیادہ پایا جاتا ہے۔
	حضورنبیّ رحمت،شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو ایک عورت کی نقل اتارتے ہوئے مُلاحَظہ کیاتو ارشاد فرمایا:مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور مجھے یہ یہ چیز مل جائے(یعنی  کثیر دنیا مل جائے)۔ (2) 
لکھ کربھی غیبت ہوتی ہے:
	اسی طرح لکھ کر بھی غیبت ہوتی ہے کیو نکہ قلم منظر کشی اور سمجھانے کے معاملے میں زبان کی مثل ہے اور مصنف کا کتاب میں مُعَیَّن شخص کا ذکر کرنااور اس کے کلام کے نقص کو بیان کرنا بھی غیبت ہےسِوائے یہ کہ کسی عذر کے باعث  اس کو ذکرکرنے کی حاجت ہوجیسا کہ عنقریب اس کا بیان آئے گا۔رہا یوں کہناکہ کچھ لوگ یوں کہتے ہیں تو یہ غیبت نہیں ہے،غیبت صرف مُعَیَّن شخص کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کا نا م ہے خواہ وہ شخص زندہ ہو یا مردہ۔
	یہ کہنا بھی غیبت ہے کہ”ایک آدمی  جو آج ہمارے پاس سے گزر اتھا یاجسے ہم نے دیکھا تھا  وہ ایسا تھا“جبکہ مخاطب اس سے شخص معین سمجھےکیو نکہ ممنوع معین شخص کی برائی کے ساتھ پہچان کرانا ہے نہ کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۴۳،حديث:۲۰۸
2…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی الغيبة،۴/ ۳۵۳،حديث:۴۸۷۵