صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی۔(1)
دوسرے کا ذکر تین طرح سے ہوتا ہے:
حضرت سیِّدُناحَسَن بصر یعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: دوسرے کا ذکر تین طرح سے ہوتا ہے۔ (۱)…غیبت(۲)…بُہتان اور (۳)…اِفک کی صورت میں اور ان تمام کا ذکرقرآن مجید میں موجود ہے۔ غیبت یہ ہے کہ تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود ہو ۔بہتا ن یہ ہے کہ ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو اور افک یہ ہے کہ جو بات تم تک پہنچے اسے کہہ دو(یعنی ہر سنی سنائی بات کہہ دو اس کی تحقیق نہ کرو)۔
غیبت سے ہاتھوں ہاتھ توبہ:
حضرت سیِّدُنااِمام ابْنِ سِیْرِیْن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْننے ایک شخص کا ذکرکرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ وہ سیاہ فام ہے پھرفرمایا :اَسْتَغْفِرُاللّٰہمیں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس کی غیبت کی ہے ۔
ایک مرتبہ آپ نےحضرت سیِّدُنا ابراہیم نَخَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا تذکرہ کیا تو اپناہاتھ اپنی ایک آنکھ پر رکھ لیا اور انہیں کانا نہیں کہا۔
گوشت کا ٹکڑا نکال کر پھینکا:
اُم ُّالمؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :تم میں سے کوئی شخص کسی کی غیبت ہرگز نہ کرے کیو نکہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر تھی تومیں نے ایک عورت کے بارے میں کہا :یہ لمبے دامن والی ہے ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جو کچھ تمہارے منہ میں ہے نکال پھینکو۔“
میں نے گوشت کا ٹکڑا نکال کر پھینکا۔(2)
تیسری فصل: غیبت زبان کے ساتھ خاص نہیں
جان لیجئے کہ زبان کے ساتھ غیبت کرنا حرام اس لئے ہے کہ اس میں دوسرے کو اپنے مسلمان بھائی کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندالسيدة عائشة رضی الله عنها،۱۰/ ۱۹،حديث:۲۵۷۶۶
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۴۵،حديث:۲۱۶