جواب:یہ استدلال فاسد ہے کیو نکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ان باتوں کا ذکر اس لئے کرتے تھےکہ انہیں سوال کے ذریعے احکام کو جا ننا ہو تا تھا،ان کی غرض عیب لگا نا نہیں ہو تی تھی اور سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس کے علاوہ انہیں اس قسم کی باتوں کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی اور دلیل اس پر یہ ہے کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو کسی دوسرےکا ذکر ان الفاظ کے ساتھ کرے جو اسے ناپسند ہو تو وہ غیبت کرنے والا ہے کیو نکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیبت کی جو تعریف کی ہے یہ اس میں داخل ہے ۔
غیبت اور بُہتان کا فرق:
ان تمام باتوں میں اگر چہ وہ سچا ہو لیکن پھر بھی وہ غیبت کرنے والا، اپنے ربّ کی نا فرمانی کرنے والا اور اپنے مسلمان بھائی کا گو شت کھا نے والا ہے اور دلیل یہ ہے کہ حُسن اخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟صحابۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ارشادفرمایا:ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا یَکْرَھُہٗ یعنی تم اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کروجسے وہ ناپسند کرتا ہے۔کسی نے عرض کی:جو میں کہہ رہا ہوں اگر وہ میرے مسلمان بھائی میں موجود ہو تو؟ فرمایا: جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو توتم نے اس پر بہتان با ندھا۔(1)
حضرت سیِّدُنامُعاذبن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص کا ذکر کیا گیاتو لوگوں نے عرض کی:وہ کتنا عاجز ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا:تم نے اپنے بھائی کی غیبت کی،عرض کی گئی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم نے تو وہی بات کہی جو اس میں موجود ہے۔ ارشاد فرمایا: اگر تم ایسی بات کہتے جو اس میں موجود نہیں ہے توتم اس پر بہتان با ندھتے۔(2)
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے متعلق مروی ہےکہ انہوں نے حضور نبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک عورت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس کاقد چھوٹا ہےتو آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب البروالصلة والاداب،باب تحريم الغيبة،ص۱۳۹۷،حديث:۲۵۸۹
2…المعجم الکبير،۲۰/ ۳۹،حديث:۵۷