Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
435 - 1245
 عَزَّ  وَجَلَّ کی کسی بھی مخلوق کا تَذکِرَہ ہمیشہ اچھا کرنا چاہئے۔
غیبت کی مَذمَّت میں دوفرامین:
	حضرت سیِّدُناامام زَینُ الْعابِدِیْنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے کسی شخص کو غیبت کرتے ہوئے سناتو فرمایا:غیبت سے بچو کیونکہ یہ  انسان نماکتّوں کا سالن ہے۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نےفرمایا:اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کا ذکرکیا کروبے شک اس میں شِفا ہےاور لوگوں کے تذکروں سے بچو کہ یہ بیماری ہے۔
	ہماللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  سے اس کی اطاعت کے لئےحُسْنِ تَوفیق کا سوال کرتے ہیں۔
دوسری فصل:			غیبت کی تعریف اور مثالیں
	غیبت کی تعریف یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا تذکرہ اس طرح کرو کہ اگر اس تک وہ بات پہنچے تو وہ اسے ناپسند کرےخواہ تم اس کی بدنی یا خاندانی خامی  کا تذکرہ کرو یااَخلاق اورقول وفعل میں کوئی برائی بیان کرویونہی  اس کی دُنیاوی یا دینی خامی کاذکر کرو یہاں تک کہ  اُس کے کپڑے ، مکان اور جانور کے حوالے سے بھی خامی بیان کرو تویہ بھی غیبت  میں داخل ہے۔ 
بدن میں غیبت کی مثالیں:
	تم کسی کا تَذکِرَہ کرتے ہوئے کہو :وہ چُندھا(یعنی کمزور نظر والا یا تیز روشنی برداشت نہ کرنے کے سبب آنکھیں جھپکانے والا)،بھینگایاگنجا ہے،اس کا قد چھوٹا یا لمبا ہے،اس کا رنگ سیاہ یا زردہےاوراسی طرح  ہر اس بات کا خیال جسے  بیان کیا جانااسے  ناپسندہواُس کا تَذکِرَہ کرناخواہ کسی بھی طریقے سے ہو(غیبت ہے)۔
خاندان کے حوالے سے غیبت کی مثالیں:
	تم کہو:فلاں  کا باپ کسان ، ہندی(یعنی ہندوستان کا باشندہ)یا فاسق ہے،کمینہ،موچی ہےیا کوڑا کرکٹ صاف کرنے والاہے۔