میں اس کا گوشت اس کے قریب کیا جائے گااور کہا جائے گاجیسےتو اس کا گوشت زند گی میں کھاتا تھا ،اب مر کر بھی کھا، لہٰذا وہ اسے کھا ئے گاتوچیخیں مارےگا اور منہ بگاڑے گا۔“
اوریہی بات رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بھی مروی ہے۔
نماز لوٹانے کا حکم دیا:
مروی ہے کہ دو شخص مسجِدُالْحَرام کے دروازوں میں سے کسی دروازے کے پاس بیٹھے تھے، ان کے پاس سے ایک شخص گزرا جو عورتوں کی مُشابَہَت اِختیار کرتا تھا پھر اس نے یہ کام چھوڑ دیا تھا، ان دونوں نے کہا: اس میں اس کا کچھ اثر با قی ہے پھر جماعت قائم ہو ئی، دونوں نے اندر داخل ہو کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی پھرانہیں اپنی گفتگو کا کھٹکا محسوس ہوا چنانچہ دونوںمفتیٔ مکہ حضرت سیِّدُنا عطاء بن ابی رَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوئےاور ان سے مسئلہ پو چھا تو آپ نے ان دونوں کوحکم دیا کہ وہ نئے سرے سے وضوکرکےنماز لوٹائیں اور اگر روزے سے تھے تو روزے کی قضا کریں۔
حضرت سیِّدُنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ مبارکہ: وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ ۙ﴿۱﴾ ترجمۂ کنز الایمان:خرابی ہے اس کے لئے جو لوگوں کے منھ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے۔( پ۳۰،الھمزة:۱) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ہُمَزَةسے مراد وہ شخص ہے جولوگوں کی عزتوں پر حملہ کرتا ہے اور لُمَزَةسے مراد وہ ہے جولوگوں کا گو شت کھا تا ہے(یعنی غیبت کر تا ہے)۔
عذابِ قبر کےتین حصے:
حضرت سیِّدُناقتادَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :ہمیں بتایا گیا ہے کہ عذاب قبر کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے(۱)ایک تِہائی عذاب غیبت کی وجہ سے (۲)ایک تِہائی چغلی کی وجہ سے اور(۳)ایک تِہائی پیشاب (کے چھینٹوں سے خود کو نہ بچانے)کی وجہ سے ہو تا ہے۔
غیبت دین میں فساد پیدا کرتی ہے:
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: غیبت بندۂ مومن کے دین میں اس سے بھی