Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
432 - 1245
کسی مسلمان کی آبروریزی کرنا ہے۔(1)
عذابِ قبر کے دو سبب:
	حضرت سیِّدُناجابِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضورنبیّ پاک،صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک سفر  میں تھے،آپ ددقبروں کے پاس تشریف لا ئے  جن میں مَیِّت کو عذاب ہو رہا تھا، ارشاد فرمایا: ان دونوں کو عذا ب ہو رہا ہے اور کسی بڑے امر کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ ان میں سے ایک لوگوں کی غیبت کیا کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا پھر آپ نے ایک یا دوتر ٹہنیاں منگوائیں اور ان کے دو ٹکڑے کئے اورہر ٹکڑے کو قبر پر گاڑنے کا حکم دے کر ارشاد فرمایا:جب تک یہ تررہیں گی یا خشک نہ ہو جا ئیں ان کے عذاب میں کمی رہے گی۔(2)
فَوت شُدہ کی بُرائی کرنا بھی غیبت ہے:
	جب  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  حضرت ماعِزاَسْلَمِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زنا کی سزا میں سَنگسار کروایاتو ایک شخص نے دوسرے سے کہا:اسے کتے کی طرح مارا گیا۔(واپسی پر)حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مُردار کے پاس سے گزرےوہ دونوں بھی آپ کے ساتھ تھے،آپ نے ان سے ارشاد فرمایا:”اس مُردار سے کھاؤ۔“ان دونوں نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم اس مُردار کو کھائیں؟ ارشاد فرمایا: جو کچھ تم نے اپنے مسلمان بھائی کے متعلق کہا ہے ،وہ اس سے بھی زیادہ بدبودار ہے۔(3)
	صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپس میں خندہ پیشانی کے ساتھ ملا کرتے تھے اورعدم موجودگی میں غیبت نہیں کرتے تھے اور اسے افضل عمل جا نتے تھے اور اس کے خلاف عمل کو منافقین کی عادت سمجھتے تھے ۔
آخرت میں اپنے بھائی کا گوشت کھانا پڑے گا:
	حضرت سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:”جو دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھائے گا آخرت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۲۶،حديث:۱۷۵
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب الصمت،۷/ ۱۲۷،حديث:۱۷۶
3…سنن ابی داود،کتاب الحدود،باب رجم ما غربن مالک،۴/ ۱۹۷،حديث:۴۴۲۸